Brailvi Books

علمُ القرآن
134 - 244
    قاعدہ نمبر۳: رب کے معنی اور ان کی پہچان
    الف: جب رب کی نسبت اللہ کی طر ف ہو تو اس سے مراد ہے حقیقی پالنے والا یعنی اللہ تعالیٰ ۔

    ب: جب کسی بندے کو رب کہا جاوے تو اس کے معنی ہوں گے مربی ، محسن ، پرورش کرنے والا۔

ّ'' الف''کی مثال یہ آیات ہیں:
(1) اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾
ساری حمد یں اللہ کے لئے ہیں جو جہان کا رب ہے ۔(پ1،الفاتحۃ:1)
(2) رَبَّکُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾
وہ اللہ تمہارا اور تمہارے پچھلے باپ دادوں کا رب ہے ۔(پ23،الصّٰفّٰت:126)
(3) قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾
فرمادو میں پناہ لیتا ہوں انسانوں کے رب کی ۔(پ30،الناس:1،2)

ان آیا ت میں چونکہ اللہ تعالیٰ کو رب کہا گیا لہٰذا اس سے مراد حقیقی پالنے والا ہے ۔

''ب'' کی مثال ان آیتو ں میں ہے :
(1) ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَسْـَٔلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعْنَ اَیۡدِیَہُنَّ
اپنے مربی (بادشاہ) کی طر ف لوٹ جاپھر اس سے پوچھ کہ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے ہاتھ کاٹے تھے ۔(پ12،یوسف:50)
(2) قَالَ مَعَاذَ اللہِ اِنَّہٗ رَبِّیۡۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ
فرمایا یوسف نے اللہ کی پناہ وہ بادشاہ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھی طر ح رکھا ۔(پ12،یوسف:23)
Flag Counter