Brailvi Books

علمُ القرآن
128 - 244
    جواب :خاتم ختم سے بنا ہے جس کے معنی افضل نہیں ورنہ
خَتَمَ اللہُ عَلَی قُلُوْبِہِمْ                            (پ 1،البقرۃ:7)
کے معنی یہ ہوتے کہ اللہ نے کافروں کے دل افضل کردیئے۔ جب ختم میں افضلیت کے معنی نہیں تو خاتم میں جوا س سے مشتق ہے یہ معنی کہا ں سے آگئے لوگو ں کا کسی کو خاتم الشعراء کہنا مبالغہ ہوتا ہے گویا اب اس شان کا شاعر نہ آوے گا کہا کرتے ہیں فلاں پر شعر گوئی ختم ہوگئی ۔ رب تعالیٰ کا کلام مبالغہ اور جھوٹ سے پاک ہے ، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان مہاجرین میں جنہوں نے مکہ مکر مہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی آخری مہاجرہی کیونکہ ان کی ہجرت فتح مکہ کے دن ہوئی جس کے بعد یہ ہجرت بند ہوگئی لہٰذا وہاں بھی خاتم آخر کے معنی میں ہے ۔

    سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْیَوْمِ
آج کے بعد اب مکہ سے ہجرت نہ ہوگی ،اگر وہاں خاتم کے معنی افضل ہوں تو لازم آئے گا کہ حضر ت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بھی افضل ہوجاویں کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بھی مہاجرہیں ۔

    اعتراض: اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کیوں آپ کے بعد آویں گے ۔آخری نبی کے بعد کوئی نبی نہ چاہیے ؟

    جواب: آخر ی نبی کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے زمانہ یا آپ کے بعد کوئی نبی باقی نہ رہے۔ آخری اولاد کے معنی یہ ہیں کہ پھر کوئی بچہ پیدا نہ ہو، نہ یہ کہ پچھلے سب مرجاویں نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا اب نبوت کی حیثیت سے نہ ہوگا بلکہ حضور کے امتی کی حیثیت سے یعنی وہ اپنے وقت کے نبی ہیں اور اس وقت کے امتی۔
Flag Counter