تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اوراے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ ونگہبان لائیں گے ۔(پ5،النساء:41)
ان آیتوں سے تین باتیں معلوم ہوئیں ۔ ایک یہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا دین مکمل ہے اور دین کے مکمل ہوچکنے کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمام نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں کسی نبی کی بشارت یا خوشخبری نہیں دیتے اور پچھلے نبی کی تصدیق ہوتی ہے آئندہ کی بشارت اگر آپ کے بعد کوئی اور نبی ہوتا تو اس کے بشیر بھی ہوتے۔ تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سارے پیغمبروں اور ان کی امتوں پر گواہ ہیں لیکن کوئی نبی حضور کا گواہ یا حضو رکی امت کا گواہ نہیں جس سے معلوم ہوا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چوتھے یہ کہ سارے نبی آپ سے پہلے گزرچکے کوئی باقی نہیں رہا ۔
اعتراض: خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں سے افضل جیسے کہا کرتے ہیں فلاں شخص خَاتَمُ الشُّعَرَآءِ یا خَاتَمُ الْمُحَدِّثِیْنَ ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ شاعروں یا محدثوں میں آخری شاعر یاآخری محدث ہے بلکہ محدثوں میں افضل ہے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا: