Brailvi Books

علمُ القرآن
129 - 244
جیسے کوئی جج دوسرے جج کی کچہری میں گواہی دینے کے لئے جاوے تو وہ اگرچہ اپنے علاقہ میں جج ہے مگر اس علاقہ میں گواہ عیسیٰ علیہ السلام محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علاقہ میں ان کے دین کی نصرت ومدد کرنے تشریف لاویں گے ۔

    نوٹ ضروری:جب ختم بمعنی مہر ہوتا ہے تو اس کے بعد علٰی ضرورہوتا ہے خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ جیسے کہ ہماری پیش کر دہ آیات سے ظاہر ہے اور جب ختم بمعنی آخر ہونا یا تمام کرنا ہوگا تو علٰی کی ضرورت نہیں خاتم النبین میں علی نہ ظاہر ہے نہ پوشیدہلہٰذا یہاں آخری نبی مراد ہیں ۔

     نوٹ ضروری : خاتم النبیین کے معنی ''آخری نبی ''خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائے اور اس پر امت کا اجماع رہا اب آخر ی زمانہ میں مولوی محمد قاسم دیوبندی اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے نئے معنے ایجاد کئے یعنی اصلی نبی، افضل نبی اور ان اجماعی معنی کاانکار کیا اسی لئے ان دونوں پر عرب وعجم کے علماء نے فتوی کفردیا اور جیسے قرآن مجیدکے الفاظ کا انکار کفر ہے ویسے ہی اس کے اجماعی معنی کاانکار بھی کفر ہے اگر کوئی کہے کہ
اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ                               (پ 1،البقرۃ:43)
پر میرا ایمان ہے یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے ہیں مگر صلوٰۃ کے معنی نماز نہیں بلکہ اس کے معنے دعاہیں ۔ ہاں نماز بھی اس معنی میں داخل ہے اور زکوٰۃ کے معنی صدقہ واجبہ نہیں بلکہ اس کے معنی پاکی ہے ہا ں صدقہ وخیرات بھی اس میں داخل ہے تو وہ کافر ہے کیونکہ اگر چہ وہ قرآن کے لفظوں کا انکار نہیں کرتا مگر متواتر معنی کا انکار کرتاہے اس صورت میں خواہ نماز کو فر ض ہی مانے مگر جب قرآن میں الصلوٰۃ کے معنی نماز نہیں کرتا تو وہ کافر ہے ۔

    نیز نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سارے صفات کو ماننا ایمان کے لئے
Flag Counter