| علمُ القرآن |
مان لیتے تھے او رکچھ حصہ بتو ں کے نام پر نامز د کردیتے تھے پھر انہیں کھانا یا تو بالکل حرام جانتے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ جانور اور یا ان کے کھانے میں پا بندی لگاتے تھے کہ مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں فلاں کھائے فلاں نہ کھائے ۔ ان دونوں حرکتوں کی رب نے تردید ان آیات میں فرمادی:
(1) وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ
اور نہ کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بتانے سے کہ یہ حلال ہے اوریہ حرام۔(پ14،النحل:116)
(2) قُلْ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمۡ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا
فرماؤ کہ بھلا دیکھو تو جو اللہ نے تمہارا رزق اتارا تم نے اس میں کچھ حلال بنایا کچھ حرام۔(پ11، یونس: 59)
(3) قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ
فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور ستھرا رزق۔(پ8،الاعراف:32)
(4) َّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللہُ افْتِرَآءً عَلَی اللہِ
ان کافروں نے حرام سمجھ لیا اسے جو اللہ نے انہیں رزق دیا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے ۔(پ8،الانعام:140)
(5) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوۡا لِلہِ اِنۡ کُنۡتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾
اے مسلمانو! کھاؤ وہ ستھری چیز یں جو ہم تمہیں رزق دیں اور اللہ کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔(پ2،البقرۃ:172)