| علمُ القرآن |
الوہیت کا قائل ہو کر اس کی منت مانے تو اگر چہ یہ شخص مشرک ہوگا اور اس کا یہ کام حرام ہوگا مگر وہ چیز حلال رہے گی اس چیز کو حرام جاننا سخت غلطی ہے اور قرآن کریم کے خلاف ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
(1) مَا جَعَلَ اللہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَا وَصِیۡلَۃٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ
نہیں بنایا اللہ نے بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام یہ مشرکین اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ۔(پ7،المآئدۃ:103)
کفار عرب ان چا رقسم کے جانور وصیلہ حام وغیر ہ کو اپنے بتو ں کے نام کی نذر کرتے تھے اور انہیں کھانا حرام جانتے تھے ۔ رب تعالیٰ نے ان کی تردید فرمادی اور فرمایا کہ یہ حلال ہیں جیسے آج کل ہندوؤں کے چھوڑے ہوئے سانڈ ھ حلال ہیں ۔ اللہ کے نام پر ذبح کر و اور کھاؤ ۔(2) وَ جَعَلُوۡا لِلہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الۡاَنْعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلہِ بِزَعْمِہِمْ وَہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا
اور ٹھہر ایا ان کا فروں نے اللہ کا اس کھیتی اور جانوروں میں ایک حصہ پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا حصہ ہے اپنے خیال پر اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے ۔(پ8،الانعام:136)
(3) وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ٭ۖ لَّا یَطْعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ
اور کافر کہتے ہیں کہ یہ جانور اور کھیتی منع ہے اسے نہ کھائے مگر وہ جسے ہم چاہیں۔(پ8،الانعام:138)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ کفار عرب اپنے جانوروں کھیتوں میں بتو ں کی نذر