(9) قَدْ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوْلَادَہُمْ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللہُ افْتِرَآءً عَلَی اللہِ
بے شک نقصان میں رہے وہ جنہوں نے اپنی اولاد کو نادانی اور جہالت سے قتل کر ڈالااور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو حرام کرلیا اللہ پر تہمت لگاتے ہوئے ۔(پ8،الانعام:140)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار عرب کے اس عقیدے کی پرزور تردید فرمائی کہ جس جانور اور جس کھیتی وغیر ہ کو بت کے نام پر لگادیا جاوے وہ حرام ہوجاتا ہے۔ فرمایا: تم اللہ پر تہمت لگاتے ہو اللہ نے یہ چیزیں حرام نہ کیں تم کیوں حرام جانتے ہو، جس سے معلوم ہو اکہ بتوں کے نام کی نذر ماننا شرک تھا اور ان کا یہ فعل سخت جرم تھا مگر اس چیز کو حلال ٹھہرایا اس کے حرام جاننے پر عتاب کیا ،اسے حلال رزق اور طیب روزی فرمایا ۔ ان بتوں کے نام پر چھوٹے ہوئے جانوروں کے متعلق حکم فرمایا کہ اللہ کے نام پر ذبح کرو اور کھاؤ کافروں کی باتوں میں نہ آؤ ۔ ایسے ہی آج بھی جس چیز کو غیر خدا کے نام پر شرعی طور پر نذر کر دیا جائے وہ بھی حلال طیب ہے اگرچہ یہ نذر شرک ہے ۔
نذر کے تیسرے معنی عرفی ہیں یعنی کسی بزرگ کو کوئی چیز ہدیہ ، نذرانہ ، تحفہ پیش کرنا یا پیش کرنے کی نیت کرنا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو حضو ر غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ