لگانی نہیں پڑتی ۔
دوسرے یہ کہ تمہاری یہ تفسیر خود قرآن کی اپنی تفسیر کے خلاف ہے قرآن کی مذکورہ بالا آیات نے بتایا کہ یہاں دون بمعنی مقابل ہے ۔ لہٰذا تمہاری یہ تفسیر تحریف ہے ۔ تفسیر نہیں ۔ تیسرے یہ کہ ان قیدوں کے با وجود آیت درست نہیں ہوتی کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ سے بیٹھے ہوئے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ کی مافوق الاسباب مدد فرمادی کہ انہیں دشمن کی خفیہ تدبیر سے مطلع فرمادیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کی مافوق الاسباب دور سے مدد فرمادی کہ اپنی قمیص کے ذریعہ باذن پر ور دگار ان کی آنکھیں روشن فرمادیں اور ظاہر ہے کہ قمیص آنکھ کی شفا کا سبب نہیں لہٰذا یہ مدد مافوق الاسباب ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی وفات کے بعد ہماری مافوق الاسباب یہ مدد کی کہ پچاس نمازوں کی پانچ کرادیں۔
اس قسم کی سینکڑوں مددیں ہیں جو اللہ کے پیاروں نے غائبانہ مافوق الاسباب فرمائیں ۔ تمہاری اس تفسیر کی رو سے سب شرک ہوگئیں غرضیکہ تمہاری یہ تفسیر درست نہیں ہوسکتی ۔چوتھے یہ کہ تم اپنی قیدوں پر خود قائم نہ رہو گے ۔ اچھا بتاؤ ۔اگر غائبانہ امداد تو منع ہے کیا حاضر انہ امداد جائز ہے تو بتا ؤ کسی زندہ ولی سے اس کے پاس جاکر فر زند مانگنا یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر پر جاکر حضور سے جنت مانگنا ودوزخ سے پناہ مانگنا جائز ہے تم اسے بھی شرک کہتے ہو تو تمہاری یہ قیدیں خود تمہارے مذہب کے خلاف ہیں بہر حال یہ قیود باطل ہیں ان آیات میں دون بمعنی مقابل ہے ۔