Brailvi Books

علمُ القرآن
118 - 244
نذر ونیاز
    قرآن کریم میں یہ لفظ بہت جگہ استعمال ہوا ہے نذر کے لغوی معنی ہیں ڈرانا یا ڈرسنانا ۔ شرعی معنی ہیں غیر لازم عبادت کو اپنے پر لازم کرلینا ، عرفی معنی ہیں نذرانہ وہدیہ قرآن کریم میں یہ لفظ ان تینوں معانی میں استعمال ہوا ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
 (1) اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا
ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دینے والا ڈرسنا نے والا۔(پ22،فاطر:24)
(2) وَ اِنۡ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾
نہیں ہے کوئی جماعت مگر گذرے ان میں ڈرا نے والے ۔(پ22،فاطر:24)
(۳)اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا
کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہ آئے جو تم پر تمہارے رب کی آیات تلاوت کرتے ہیں اور تمہیں اس دن کے ملنے سے ڈراتے ۔(پ۲۴،الزمر:۷۱)
(4) فَاَنۡذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی ﴿ۚ۱۴﴾
اور ڈرایا میں نے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ۔(پ30،الیل:14)
(5) اِنَّا اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾
ہم نے قرآن شریف اتارا برکت والی رات میں ہم ہیں ڈرانے والے ۔(پ25،الدخان:3)

    ان جیسی بہت سی آیات میں نذر لغوی معنی میں استعمال ہو ا ہے بمعنی ڈرانا، دھمکانا۔ اس معنی میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی آتا ہے اور انبیا ء کرام کے لئے بھی اورعلماء دین کے لئے بھی۔یہ لفظ شرعی معنی میں بھی استعمال ہو اہے رب تعالیٰ فرماتا ہے :
محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم )رسول ہی ہیں ان سے پہلے سارے رسول گزر چکے ۔(پ4،ال عمرٰن:144)
Flag Counter