میرے سوا کسی کو وکیل نہ بناؤ حالانکہ دن رات وکیل بنایا جاتا ہے اب وکیل کے معنی کی تو جیہیں کرو اور شفعاء کے متعلق بحث کرتے پھرو لیکن اگر یہاں دون کے معنی مقابل کرلئے جائیں تو کلام نہایت صاف ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابل نہ کوئی سفارشی ہے نہ وکیل، نہ کوئی حمایتی ہے نہ کوئی مدد گار نہ کوئی دوست جو کوئی جو کچھ ہے وہ رب تعالیٰ کے ارادہ اور اسی کے حکم سے ہے لہٰذا جہاں بندوں سے ولایت، حمایت، مدد، دوستی کی نفی ہے وہاں رب تعالیٰ کے مقابل ہوکر ہے کہ رب تعالیٰ چاہے ہلاک کرنا اور یہ مدد کر کے بچالیں او رجہاں ان چیز وں کا بندوں کے لئے ثبوت ہے وہاں اذن الٰہی سے مدد نصرت وغیرہ ہے ۔ اعتراض : ان آیات میں مِنْ دُوْنِ اللہِ سے اللہ کے سواء ہی مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا ء غائبانہ مافوق الاسباب مدد کرنے والا کوئی نہیں ۔ یہ ہی عقیدہ شرک ہے جن آیتو ں میں اللہ کے بندوں کی مدد اور ولایت کا ثبوت ہے ۔ وہاں حاضرین زندوں کی اسباب غائبانہ مدد مراد ہے ۔(جواہر القرآن) جواب:یہ تو جیہہ بالکل غلط ہے چند وجہوں سے ایک یہ کہ نفی مدد کی آیتوں میں کوئی قید نہیں ہے مطلق ہیں تم نے اپنے جیب سے اس میں تین قیدیں لگائیں غائبانہ، مافوق الاسباب ، مردو ں کی مدد ، قرآن کی آیت خبر واحد سے بھی مقید نہیں ہوسکتی اور تم صرف اپنے گمان وہم سے مقید کر رہے ہو ۔ او راگردون کوبمعنی مقابل لیا جاوے تو کوئی قید