Brailvi Books

علمُ القرآن
115 - 244
(2) لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾
تم فرماؤ کہ وہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچائے اگر ارادہ کرے رب تمہارے لئے برائی کا اور ارادہ کرے مہربانی کا اور وہ اللہ کے مقابل کوئی نہ دوست پائیں گے نہ مد د گار ۔(پ21،الاحزاب:17)
(3) اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ
کیا ان کے کچھ ایسے خدا ہیں جو انہیں ہم سے بچالیں۔(پ17،الانبیآء:43)

    ان آیات نے تفسیر فرمادی کہ جہاں مد د یادوستی کے ساتھ لفظ دون آئے گا وہاں مقابل اور رب کو چھوڑ کر معنی دے گا نہ کہ صرف سواء یاعلاوہ کے ۔

    نیز اگر اس جگہ دون کے معنی سواء کئے جائیں تو آیات میں تعارض بھی ہوگا کیونکہ مثلاً یہاں تو فرمایا گیا رب کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مدد گار نہیں اور جو آیات ولی کی بحث میں پیش کی گئیں وہاں فرمایا گیا کہ تمہارا ولی اللہ اوررسول اور نیک مومنین ہیں یا تمہارے ولی فرشتے ہیں یا فرمایا گیا کہ اے مولیٰ اپنی طر ف سے ہمارے مدد گار فرما ۔ ا س تعارض کا اٹھانا بہت مشکل ہوگا ۔

    نیز اگر ان آیات میں دون کے معنی سواء کئے جائیں تو عقل کے بالکل خلاف ہوگا اور رب کا کلام معا ذ اللہ جھوٹا ہوگا ۔ 

     مثلاً یہا ں فرمایا گیا کہ
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ ؕ
انہوں نے خدا کے سوا سفارشی بنالیئے ۔ سفارشی تو خدا کے سواہی ہوگا۔(پ۲۴،الزمر:۴۳)
Flag Counter