(7) وَمَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ
اور نہیں ہے ان کافروں کے لئے اللہ کے مقابل کوئی مدد گار ۔(پ12،ہود:20)
ان جیسی تمام ان آیتوں میں جہاں مدد، نصرت ، ولایت، دوستی وغیرہ کے ساتھ لفظ دون آیا ہے ۔ ان میں اس کے معنی صرف سواء یا علاوہ کے نہیں بلکہ وہ سواء مراد ہے جو رب تعالیٰ کا دشمن یا مقابل ہے ۔ لہٰذا اس دون کے معنے مقابل کرنا نہایت موزوں ہے جن مفسرین نے یا تر جمہ کرنیوالوں نے ان مقامات میں سواء ترجمہ کیا ہے ان کی مراد بھی سواء سے ایسے ہی سواء مرا دہیں ۔ اس دون کی تفسیر یہ آیات ہیں:
(1) وَ اِنۡ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ
اوراگر رب تمہیں رسوا کرے تو کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے ۔(پ4،اٰل عمرٰن:160)