(6) اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوْلِیَآءَ
تو کافر وں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ میرے بندوں کومیرے سوا معبود بنائیں ۔(پ16،الکہف:102)
ان جیسی آیا ت میں چونکہ دون کا لفظ تدعون اور اولیاء کے ساتھ آیا ہے اور یہاں تدعون کے معنی عبادت ہیں اور اولیاء کے معنی معبود لہٰذا یہاں بھی دون بمعنی علاوہ اور سواہوگا ۔ لیکن جہاں ''دون'' مدد یا نصرت یا دوستی کے ساتھ آوے گا تو وہاں اس کے معنی صرف سواء کے نہ ہوں گے ۔ بلکہ اللہ کے مقابل یا اللہ کو چھوڑ کر ہوں گے یعنی اللہ کے سواء اللہ کے دشمن۔ اس تفسیر اور معنی میں کوئی دشواری نہ ہوگی جیسے(1) اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾
کہ میرے مقابل کسی کو وکیل نہ بناؤ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:2)
(2) اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ
کیا ان لوگوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں۔(پ24،الزمر:43)
(3) وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾
اور اللہ کے مقابل نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مدد گار ۔(پ1،البقرۃ:107)
(4) وَّلَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷۳﴾
اور وہ اللہ کے مقابل اپنا نہ کوئی دوست پائینگے اور نہ مدد گار ۔(پ6،النسآء:173)