شریف شرک، قبر وں پر جانا شرک ، عید کو سویاں پکانا شرک، نعلین کو بوسہ دینا شرک ، گویا قدم قدم پر شرک ہے اور ساری مشرکین وکفار کی آیات مسلمانوں پر چسپاں کر تے ہیں ۔
اعتراض : کسی کو حاجت روا مشکل کشا سمجھ کر اس کی تعظیم کرنا عبادت ہے اور اس کے سامنے جھکنا بندگی ہے۔ (جواہر القرآن ۔ تقویۃ الایمان)
جواب : یہ غلط ہے ہم حکام وقت کی تعظیم کرتے ہیں یہ سمجھ کر کہ بہت سی مشکلات میں ان کے پاس جانا پڑتا ہے کیا یہ عبادت ہے ؟ ہر گز نہیں حکیم ، استاد کی تعظیم کی جاتی ہے کہ ان سے کام نکلتے رہتے ہیں ۔ یہ عبادت نہیں ۔
اعتراض: کسی کو مافوق الاسباب متصرف مان کر اس کی تعظیم کرنا عبادت ہے اور یہ ہی شرک ہے ۔
جواب: یہ بھی غلط ہے فرشتے مافوق الاسباب تصرف کرتے ہیں ۔ یہ جان نکالتے ہیں ماں کے پیٹ میں بچے بناتے ہیں بارش برساتے ہیں عذاب الٰہی لاتے ہیں ۔ یہ سمجھ کر فرشتوں کی تغٰظیم کرنا ان کی عبادت ہے؟ نہیں ۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں سے پانی کے چشمے باذن اللہ جاری کردیئے ۔ چاند پھاڑ ڈالا ۔ ڈوبا سورج واپس بلالیا، کنکروں، پتھر وں سے کلمہ پڑھوایا ۔ درختو ں، جانوروں سے اپنی گواہی دلوائی،حضرت عیسی علیہ السلام نے باذن اللہ مردے زندہ کئے ۔ اندھے ، کوڑھی اچھے کئے یہ سارے کام مافوق الاسباب کئے ۔ اس لئے ان کی تعظیم کرنا عبادت ہے ۔ ہرگز نہیں کیونکہ انہیں خدا کے برابر کوئی نہیں مانتا۔ خدا کے برابر ماننا ہی عبادت کے لئے شرط اول ہے ۔ یہ سب اللہ کے بندے اللہ کے اذن وارادے سے کرتے ہیں ۔اسی لئے حضرت صالح و