| علمُ القرآن |
ان کی اطاعت خدا کو راضی کرنے کے لئے رب کی عبادت ہے ۔ جیسے والدین کی فرمانبرداری ، مرشد استاد کی خوشی ، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف ، اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی غرضیکہ کوئی جائز کام ہو ۔ اگر اس میں رب تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت کرلی جائے تووہ رب تعالیٰ کی عبادت بن جاتے ہیں اور ان پر ثواب ملتا ہے حتی کہ جو اپنے بیوی بچو ں کو کماکر اس لئے کھلائے کہ یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے، رب تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے تو کمانا بھی عبادت ہے اور جو خدا کا رزق اس لئے کھائے کہ رب تعالیٰ کا حکم ہے
کُلُوْا وَاشْرَبُوْا،
اور حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ،ادا ء فرض کا ذریعہ ہے تو کھانا بھی عبادت ہے ۔ اسی لئے مجاہد فی سبیل اللہ غازی کا کھانا ، پینا ، سونا، جاگنا عبادت ہے بلکہ ان کے گھوڑوں کی رفتار بھی عبادت ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا ۙ﴿۱﴾
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دو ڑتے ہیں سینے کی آواز نکالتے ۔ (پ30،العٰدیٰت:1)
فَالْمُوۡرِیٰتِ قَدْحًا ۙ﴿۲﴾
پھر سم مار کر پتھر وں سے آگ نکالتے ہیں ۔ (پ30،العٰدیٰت:2)
فَالْمُغِیۡرٰتِ صُبْحًا ۙ﴿۳﴾
پھر صبح ہوتے ہی کفار کو تا خت وتاراج کرتے ہیں۔(پ30،العٰدیٰت:3)
لہٰذا ماں باپ کو راضی کرنا ۔ ان کی اطاعت کرنا ، رب تعالیٰ کی عبادت ہے ، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جان ومال قر بان کرنا اس سرکار کی اطاعت ہے اور رب تعالیٰ کی عبادت بلکہ اعلیٰ ترین عبادت ہے ۔ موجود ہ وہابی اس الوہیت کی قید سے بے خبر رہ کر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تو قیر کو شرک کہہ دیتے ہیں ان کے ہاں محفل میلاد