| علمُ القرآن |
حضرت ہو د، حضرت شعیب ، حضرت نوح اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوم کو پہلی تبلیغ یہ ہی فرمائی :
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ
اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی اور معبودنہیں ۔(پ8،الاعراف:59)
یعنی میری اطاعت کرنا ، تعظیم کرنا ، تو قیر بجالانا ، مجھے تمام قوم سے افضل سمجھنا لیکن مجھے خدا یا خدا کی اولاد، خدا کے برابر یا خدا کو میرا محتاج نہ سمجھنا اور ایسا عقیدہ رکھ کر میری تعظیم نہ کرنا کیونکہ اس عقیدے سے کسی کی تعظیم وتوقیر عبادت ہے اور عبادت خدا کے سوا کسی کی درست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی سچی سمجھ عطا فرمائے ۔ اس میں بہت بڑ ے لوگ ٹھوکریں کھاجاتے ہیں ۔من دون اللہ
قرآن شریف میں یہ لفظ بہت زیادہ استعمال ہوا ہے ۔ عبادت کے ساتھ بھی آیا ہے ۔ تصرف اور مدد کے ساتھ بھی ، ولی اور نصیر کے ساتھ بھی ۔ شہید اور وکیل کے ساتھ بھی ، شفیع کے ساتھ بھی ۔ ہدایت ، ضلالت کے ساتھ بھی جیسے کہ قرآن کی تلاوت کرنے والوں پر مخفی نہیں اور ہم بھی ہر طرح کی آیات گزشتہ مضامین میں پیش کرچکے ہیں ۔
اس لفظ دون کے معنی سواء اور علاوہ ہیں،مگر یہ معنی قرآن کی ہر آیت میں درست نہیں ہوتے ۔ اگر ہر جگہ اس کے معنی سواء کئے جا ئیں تو کہیں تو آیات میں سخت تعارض ہوگا اور کہیں قرآن میں صراحۃًجھوٹ لازم آئے گاجس کے دفع کے لئے سخت دشواری ہوگی قرآن کریم میں تامل کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ تین معنی میں