| احساس ذمہ داری |
حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذْنٰہُمۡ بَغْتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبْلِسُوۡنَ ﴿۴۴﴾فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۵﴾
ترجمہ کنزالایمان : پھر جب انہوں نے بھلادیا جو نصیحتیں ان کو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ۔ یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے تو جڑ کا ٹ دی گئی ظالموں کی اورسب خوبیوں سراہا اللہ رب العزت سارے جہاں کا ۔''(پ۷،الانعام: ۴۴۔۴۵)(مسنداحمد،ج۶،رقم ۱۷۳۱۳،ص۱۲۲)
حضرت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ'' اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس ہونا ، اللہ عزوجل کی مدد سے ناامید ہونا اوراللہ کی خفیہ تدبیر سے خود کو محفوظ تصور کرنا کبیرہ گناہوں سے بڑھ کر ہے ۔''
( مکارم الاخلاق،باب فیمن ظلم رجلا مسلما،ص۳۵۹، رقم :۱۲۵)
پیارے اسلامی بھائیو!یہ بے وفا دنیا نہ پہلے کسی کی ہو ئی نہ اب ہو گی ۔اگر ہماری بقیہ زندگی کی چند سانسیں بھی سنتوں کی خدمت کے لئے قبول ہو گئیں توہماری دنیا و آخرت سنور جائیگی، ان شاء اللہ عزوجل ۔اس دنیا کے مال و اسباب کے پیچھے ہم کتنا ہی دوڑیں یہ پیٹ بھر نے والا نہیں ہے جیسا کہ ہمارے پیارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے ''اگر انسان کو سونے کی دو وادیاں مل جائیں تو وہ تیسری کی تمنا کریگا ، انسان کا پیٹ تو مٹی ہی بھر سکتی ہے ۔''
(بخاری ، کتاب الرقاق، ص۲۲۹، رقم: ۶۴۳۶)
ذرا غور تو کیجئے مال و اسباب اور آسائش جمع کر نے کا احساس ہمیں دن رات کتنی مشقتوں میں مبتلاء کرتا ہے۔دن بدن بڑھتی ہوئی مشقتوں کے باوجود ہمیں چین