| احساس ذمہ داری |
نہیں آتا ،اورچین آئے بھی کیسے کہ ہمارا رب عزوجل فرما چکا،'' اے انسان تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا ،میں تیرا سینہ غنٰی سے بھر دوں گا اور تیری غریبی دور کر دوں گا اور اگر تو ایسا نہ کریگا تو تیرا ہاتھ کام کاج سے بھر دوں گا اور تیری فقیری بند نہ کروں گا۔''( مشکوۃالمصابیح،کتاب الرقاق ،ج۳،ص۱۰۸،رقم: ۵۱۷۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عزوجل کا کروڑ کروڑ احسان ہے کہ ہم جسمانی طور پر صحت مند ہیں۔ اور ایک تعداد ہے جنہیں فرصت بھی میسر ہوتی ہے مگر ہم اس نعمت کی پرواہ کئے بغیر اپنے شب و روز غفلت میں گزار رہے ہیں ۔
دونعمتیں
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے ''دو نعمتیں ہیں جن میں لوگ بہت گھاٹے میں ہیں تندرستی اور فراغت۔ ''
( مشکوۃالمصابیح،کتاب الرقاق ،ج۳،ص۱۰۵،رقم:۵۱۵۵)
پیارے اسلامی بھائیو! اکثر لوگ اپناوقت اور صلاحیتیں محض دنیا کمانے میں صرف کر تے ہیں حالانکہ دنیا کی حقیقت تو یہ ہے کہ محنت سے جوڑنا ،مشقت سے اس کی حفاظت کر نا ،حسرت سے چھوڑنا ۔ لہذا ! آئیے ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے مدنی کاموں میں مصروفِ عمل ہو جائیں اوراپنے رب عزوجل اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں لگ جائیں۔ دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبوں میں اپنا وقت صرف کر کے اسے قیمتی بنائیں مثلاً مدنی قافلوں میں سفر کریں اور مدنی انعامات پر بھی عمل کریں،