Brailvi Books

احساس ذمہ داری
44 - 51
 تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر انتہائی کڑا وقت آپڑا ہے آج پھر گلشن ِاسلامی پر خزاں کے بادل منڈلا رہے ہیں،۔۔۔۔۔۔
اے  خاصہ  خاصانِ  رسل  وقتِ  دعاء ہے		امت پے تیری آکے عجب وقت پڑا ہے

جو  دین  بڑی  شان  سے  نکلا تھا وطن سے			پردیس  میں وہ آج غریبُ  الغرباء ہے 

جس  دین  کے  مدعو  تھے  کبھی قیصر و کسریٰ		خود آج  وہ مہمان  سرائے  فقراء  ہے 

وہ  دین  ہوئی  بزمِ  جہاں  جس سے فروزاں		اب اس کی مجالس  میں  نہ بتی نہ دیا ہے 

جس دین کی حجت سے  سب  ادیان تھے مغلوب		اب معترض اس دین پہ  ہَر ہَر  زَہ سرا ہے

چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں		پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے

گو  قوم  میں  تیری نہیں  اب  کو ئی  بڑائی			پر نام تیری  قوم کا یاں اب  بھی بڑا ہے 

ڈر ہے  کہیں  یہ  نام  بھی  مٹ جائے نہ آخر		مدت  سے  اسے  دورِ  زماں میٹ رہا ہے

وہ   قوم  کہ  آفاق  میں  جو  سر  بفلک  تھی			وہ  یاد  میں  اسلاف  کی اب  روبقضا ہے

جو  قوم  کے  مالک  تھی  علوم  اور  حِکم  کی			اب  علم  کا واں  نام   نہ  حکمت کا پتا ہے 

کھوج   ان   کے   کمالات  کا  لگتا  اب  اتنا			گم  دشت میں اک قافلہ بے طبل و درا ہے 

جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کر توت	شکوہ  ہے  زمانے  کا  نہ  قسمت  کا گلہ ہے 

دیکھے  ہیں  یہ  دن  اپنی  ہی غفلت کی بدولت		سچ  ہے  کہ  برے  کام  کا  انجام  برا ہے 

فریاد   ہے   اے   کشتی  امت  کے  نگہباں			بیڑا  یہ  تباہی  کے  قریب آن لگا ہے ہے 

اے    چشمہ    رحمت   بِاَبِی  اَنْتَ    وَ اُمّی			دنیا  پے  تیرا   لطف  سدا  عام   رہا  ہے 

جس  قوم  نے  گھر  اور  وطن  تجھ سے چھڑایا		جب  تونے  کیا  نیک سلوک اُن سے کیا ہے 

سو  بار   تیرا   دیکھ   کے   عفو   اور  ترحُم			ہر  باغی  و  سرکش  کا  سر  آخر کو جھکا ہے 

برتاؤ   ترے  جبکہ  یہ  اعداء  سے  ہیں  اپنے			اعداء  سے  غلاموں  کو  کچھ  امید  سوا ہے 

کر حق عزوجل سے دعاء امتِ مرحوم کے حق میں	خطروں  میں  بہت  جسکا  جہاز آگے گھرا ہے 

امت  میں  تیری  نیک بھی ہیں بد بھی ہیں لیکن		دلدادہ  تیرا  ایک  سے  ایک ان میں سوا ہے

ایماں  جسے  کہتے  ہیں  عقیدے  میں  ہمارے		وہ  تیری  محبت  تیری  عِتْرَتْ  کی ولا ہے

جو  خاک  تیرے  درپہ  ہے  جارُوب سے اُڑتی		وہ   خاک  ہمارے  لئے  دارُوئے  شفا  ہے

جو  شہر   ہوا   تیری  ولادت   سے   مشرف			اب   تک  قبلہ  تری  امت   کا   رہا  ہے

جس  شہر  نے  پائی  تری  ہجرت سے سعادت		مکے  سے کشش  اس کی ہر اک  دل میں سوا ہے

کل  دیکھئے  پیش  آئے  غلاموں  کو  تیرے  کیا		اب تک  تو تیرے  نام  پہ  ایک ایک فدا ہے

ہم  نیک  ہیں  یا  بد  ہیں  پھر  آخر ہیں تمہارے		نسبت  بہت  اچھی  ہے  اگر  حال  برا  ہے

تدبیر    سنبھلنے    کی   ہمارے   نہیں   کوئی			ہاں  ایک  دعاء  تیری  کہ  مقبولِ  خدا  ہے

خود  جاہ  کے  طالب  نہ ہیں عزت کے ہیں خواہاں		پر  فکر  تیرے  دین  کی  عزت  کی سدا ہے
                      (ماخوذاز رسالہ جوشِ ایمانی از امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ )
Flag Counter