Brailvi Books

احساس ذمہ داری
43 - 51
      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کہیں فٹ بال اور شراب و کولڈڈرنک کے ڈھکن پر کلمہ لکھ کر، تو کہیں مسلمان مردوں کو داڑھی شریف اور اسلامی بہنوں کو پردے سے جبراً دورکر کے ہمارے دلوں کو چھلنی کیا جارہا ہے، اور نہ جانے کتنے مسلمانوں کو دولت و شہرت کی لالچ دیکر اسلام سے دور کیا جارہا ہو گا۔

    آہ صد آہ! آج مسلمان اِنہی اسلام دشمن یہود و نصاریٰ کے طریقے پر چلنے میں فخر محسوس کر تا ہے ۔آج مسلمانوں میں نیکی کی دعوت کا جذبہ ختم ہو تا جارہا ہے، اسلام کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ ماند پڑتا جارہا ہے،ہر گھر سنیما گھر بنتا جارہا ہے،مسلمان موسیقی ،شراب اور جوے کا عادی ہو تا جارہا ہے، آج مسلمان تیزی کے ساتھ بد اخلاقی کے عمیق گڑھے میں گرتا جا رہا ہے، ہر طرف اداسی ہی اداسی نظر آرہی ہے، آج پھر آقا صلی اللہ
ساتھی ساتھی کہہ کر پکارو ساتھی ہو تو جواب آئے 

پھر جھنجھلا کر سر دے پٹکوں چل رے مولیٰ والی ہے 

۔					پھر پھر کر ہر جانب دیکھو ں کو ئی آس نہ پاس کہیں 

۔					ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو 

دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے

۔					شہد دکھائے زہر پلائے ،قاتل،ڈائن،شوہر کُش

۔					اس  مردار  پہ کیا  للچایا  دنیا  دیکھی بھالی ہے 

وہ تونہایت سستا  سودا  بیچ  رہے ہیں جنت کا 

ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے 

۔					مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے 

۔					ورنہ رضاؔ  سے  چور  پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے
Flag Counter