سونا جنگل رات اندھیری چھائی بد لی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
۔ آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
۔ تیری گٹھڑی تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مَت کیسی متوالی ہے
۔ سَونا پاس ہے سُونا بن ہے سونا زہر ہے اٹھ پیارے
۔ تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے
آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جماہی انگڑائی
نام پر اٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کچھ گالی ہے
۔ جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑکے
۔ ڈر سمجھائے کو ئی پون ہے یا اگیا بیتالی ہے
بادل گر جے بجلی تڑپے دھک سے کلیجہ ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے
۔ پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ
۔ مینہ نے پھسلن کر دی ہے اور دھر تک کھائی نالی ہے