فرماتے ہیں کہ ''میرا بس چلتا تو میں نیند بھی نہ کر تا کہ اتنا (کثیر)کام کر نا ابھی باقی ہے۔''
یہ آپ کے احساسِ ذمہ داری کا بیّن ثبوت ہے کہ امتِ محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جن جن شعبوں کی حاجت تھی ،آپ ان شعبوں کو قائم کرنے میں مصروف ہو گئے اور آج الحمدللہ عزوجل !ان میں سے کئی شعبہ جات میں کام شروع ہوچکا ہے مثلاًمساجد کی تعمیر ات کے لئے''خدام المساجد'' ،حفظ و ناظرہ کے لئے''مدرسۃ المدینہ''،بالغان کی تعلیمِ قرآن کے لئے ،''مدرسۃ المدینہ برائے بالغان''،فتاویٰ کے لئے '' دار الافتائ'' ،علماء کی تیاری کے لئے ''جامعۃ المدینہ'' ،تربیتِ افتاء کے لئے'' تخصص فی الفقہ'' اور امت کو درپیش جدید مسائل کے حل کے لئے'' مجلس تحقیقاتِ شرعیہ ''پیغامِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کو عام کرنے کے لئے ''مجلس المدینۃ العلمیۃ''، تصانیف وتالیفات کو شرعی اغلاط سے محفوظ رکھنے کے لئے''مجلس تفتیش ِ کتب ورسائل ''، ''روحانی علاج کے لئے'' مجلس مکتوبات و تعویذات''،اسلامی بہنوں کو باحیا بنانے کے لئے ان کے ''ہفتہ وار اجتماعات و دیگر مدنی کام'' ،مسلمانوں کو باعمل بنانے کے لئے ''مدنی انعامات کا تحفہ'' اور دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح کی کو شش کے لئے دنیا کے کئی ممالک میں ''مدنی قافلوں اور ہفتہ وار اجتماعات ''کا مدنی جال بچھایا جاچکا ہے ،''گونگے بہرے ، نابینااسلامی بھائیوں اور جیلوں میں قیدیوں کی اصلاح'' کے لئے مجالس قائم کر دیں،''مختلف سطح کی مشاورتوں کا قیام'' اور اس طرح سنتوں کی خدمت کے کم و بیش 30شعبوں کو قائم کر کے سارا نظام ''مرکزی مجلسِ شوریٰ ''کے سپرد کر کے ان کی کارکردگی پر بھی نظر رکھتے ہیں ،اس