Brailvi Books

احساس ذمہ داری
32 - 51
ہارون کوحضرت سیدنا فضیل بن عیاض کی بارگاہ میں لے آیا۔

    جب یہ دونوں دروازے کے باہر پہنچے ،تو اندر سے حضرت کے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔آپ یہ آیتِ  پاک تلاوت فرما رہے تھے،"
اَمْ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا
ترجمہ کنز الایمان:کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے ۔''

(پ۲۵،سورۃ الجاثیۃ:۲۱)
    یہ آیتِ کریمہ سن کر ہارون رشیدنے کہا،''اس سے بڑھ کر اور کون سی نصیحت ہو سکتی ہے۔''پھر فضل نے دروازے پر دستک دی۔اندر سے دریافت کیا گیا ، کون؟... فضل نے کہا،''امیر المؤمنین آپ سے ملاقات کے لئے تشریف لائے ہیں۔''حضرت فضیل رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جواب دیا،''ان کا میرے پاس کیا کام اور میرا ان سے کیا واسطہ؟آپ حضرات میری مشغولیت میں خلل نہ ڈالیں۔''فضل بولا،''اگرآپ اجازت نہ دیں گے، تو ہم بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں گے۔''اندر سے جواب ملا، ''میں تو اجازت نہیں دیتا،ویسے بلااجازت اندرداخل ہونے میں تم دونوں مختار ہو۔''

    جب یہ دونوں اندر داخل ہوئے، تو حضرت نے چراغ بجھا دیا تاکہ ان کی صورت نظر نہ آئے اور نماز میں مشغول ہوگئے۔فارغ ہوئے توہارون نے نصیحت کی درخواست کی۔آپ نے ارشاد فرمایا،''تمہارے والد ،سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔جب انہوں نے کسی ملک کا حکمراں بننے کی خواہش کا اظہار کیا، تورحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا،''میں تمہیں ، تمہارے نفس کا حکمران بناتا ہوں،کیونکہ دنیاوی حکومت توبروز ِقیامت ،وجہ ِندامت بن جائے گی۔''یہ سن کر ہارون
Flag Counter