Brailvi Books

احساس ذمہ داری
33 - 51
نے عرض کیا''کچھ اورارشاد فرمائيے ۔''فرمایا،''جب عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو حکومت حاصل ہوئی تو انہوں نے کچھ ذی عقل لوگوں کو جمع کر کے ارشاد فرمایا کہ''مجھ پر ایک ایسے بار ِگراں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے،جس سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔'' 

     یہ سن کر ان میں سے ایک نے مشورہ دیا تھا کہ'' آپ ہرسن رسیدہ شخص کو اپنا والد،ہرجوان کو بمنزلہ بھائی یا بیٹااور ہر عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن سمجھیں ،پھر انہیں رشتوں کوملحوظ رکھتے ہوئے ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔''ہارون رشید نے عرض کی ، ''کچھ اور بھی ارشاد فرمائیں۔''آپ نے فرمایا،''مجھے خوف ہے کہ کہیں تمہاری حسین وجمیل صورت نار ِجہنم کا ایندھن نہ بن جائے ،کیونکہ بہت سے حسین چہرے ،بروز قیامت آگ میں جاکر تبدیل ہوجائیں گے،وہاں بہت سے امیر ،اسیر ہوجائیں گے۔اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔محشر میں جواب دہی کے لئے ہر لمحہ چوکس رہو کیونکہ وہاں تم سے ایک ایک مسلمان کی بازپرس ہوگی۔اگر تمہاری سلطنت میں ایک غریب عورت بھی بھوکی سو گئی ،تو بروز قیامت تمہارا گریبان پکڑے گی۔''ہارون اس نصیحت کو سن کر رونے لگا ،حتی کہ روتے روتے اس پرغشی طاری ہوگئی۔یہ حالت دیکھ کر فضل نے عرض کی،''حضرت!بس کیجئے،آپ نے تو امیر المؤمنین کو نیم مردہ کر دیا ۔''آپ نے ارشاد فرمایا،''اے ہامان!خاموش ہوجا،میں نے نہیں بلکہ تواور تیری جماعت نے ہارون کو زندہ درگور کر دیا ہے۔''یہ سن کر ہارون پر مزید رقت طاری ہوگئی ۔

    جب کچھ افاقہ ہوا تو عرض کی،''حضورآپ پر کسی کا قرض تو نہیں ہے؟''...فرمایا،''ہاں،اللہ عزوجل کا قرض ہے اور اس کی ادائیگی صرف اطاعت سے ہی