Brailvi Books

احساس ذمہ داری
28 - 51
کیوں کیا یا فلاں کام کیوں نہ کیا ؟''
( مسلم،کتاب الفضائل ،باب کان رسول اللہ   احسن الناس خلقاًص۱۲۶۴،رقم: ۲۳۰۹)
    ہمارے شیخ ِ طریقت ، امیرِ اہل ِ سنت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ العالی کا بھی یہی معمول ہے کہ آپ اسلامی بھائیوں کے ساتھ بہت نرمی سے پیش آتے ہیں ۔ جب کسی غلطی کا مرتکب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو تو بھر پور شفقت سے نوازتے ہوئے اس کی ایسی تربیت فرماتے ہیں کہ وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے، ''میرا پیر ، میرا پیر(ہے)۔۔۔۔۔۔۔''

    آپ مدظلہ العالی ارشاد فرماتے ہیں کہ ،''حادثہ اسی کار کو پیش آتا ہے جو سڑک پر چلے ،گیراج میں کھڑی کار کو حادثہ کیسے پیش آئے گا؟ اسی طرح ٹھوکر وہی گھوڑا کھاتا ہے جو دوڑ میں شامل ہو ، اصطبل میں کھڑا رہنے والاگھوڑا کیا گرے گا ؟ بالکل اسی طرح غلطی بھی اسی سے ہوتی ہے جو کام کرتا ہے ۔ ''

    لہذا ! اپنے اسلامی بھائیوں کی تربیت پر بھرپور توجہ دیں کہ وہ حتی المقدور غلطی سے بچیں اور دورانِ تربیت نرمی اختیار کیجئے (سختی سے کام نہ لیں)کہ
ہے فلاح و کامرانی نرمی وآسانی میں 

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
دعائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعاء کی، ''یاالٰہی عزوجل جومیری امت کے کسی کام کا والی ہو پھر وہ ان پر مشقت بن جائے تو اس پر مشقت ڈال اور جو میری امت کی کسی چیز کا والی ہو پھر ان پر نرمی کرے تو ان پر نرمی
Flag Counter