| احساس ذمہ داری |
مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ'' تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سائے کی طرف سبقت کر نے والے کون ہیں؟'' حاضرین نے عرض کی ،''یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ خوب جانتے ہیں ۔''فرمایا ، ''وہ لوگ کہ جب حق دئيے جائیں تو اسے قبول کرلیں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو دے دیں اور لوگوں کے لئے اسی طرح فیصلے کریں جس طرح اپنی ذات کے لئے فیصلے کرتے ہیں۔''
( مشکوۃالمصابیح،کتاب الامارۃ والقضاء ،الفصل الثالث ج۲،ص۳۴۱،رقم:۳۷۱۱)
یعنی اگر کو ئی حق بات سنائے تو اسے قبول کر کے اسکا احسان مانیں اور اپنے ماتحت لوگوں کے حقوق بخوشی ادا کریں۔اورجب انہیں کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو ایسا فیصلہ کریں جیسا فیصلہ خود اپنے لئے یااپنے عزیز کے لئے پسند کر تے ہیں ۔سبحان اللہ عزوجل! ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں کتنا پیارا نظام عطا فرمادیا ، اگر ہر مسلمان اس مدنی نصیحت کا عامل بن جائے تو نہ کسی تنظیم میں انتشار ہو اور نہ کسی ملک میں ہڑتالیں ہوں ۔
( ماخوذ من مرأۃ شرح مشکوٰۃ،کتاب الامارۃ والقضاء ،ج۳،ص۳۶۵)
(۲) نرمی اختیار کرتے ہوئے غصہ سے اجتناب کریں:
جو نگران وذمہ دار اسلامی بھائی اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کو جھاڑنے اور ڈانٹنے کا انداز اختیار کرتا ہے، وہ بہت جلد اپنی وقعت کھو بیٹھتا ہے۔ یاد رکھئے! آپ کی ذمہ داری اپنے اسلامی بھائیوں سے نرمی کے ساتھ مدنی کام لینا ہے ۔ بالفرض اگر وہ سستی اور کاہلی کا ثبوت دیں تب بھی آپ نرمی ہی اختیار فرمائیں۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال مدنی آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں رہا ، آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ'' فلاں کام تونے