| احساس ذمہ داری |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اے کاش! ہمیں سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیاری پیاری امت کی خیر خواہی اور غم خواری کے ساتھ ساتھ انفرادی عبادت کی توفیق بھی نصیب ہو جاتی،۔۔۔۔۔۔ اے کاش !ہمیں بھی ایسے نیک اعمال کرنا نصیب ہوجاتا جنہیں ہمارے رب عزوجل کے سواء کو ئی نہ جانتا،۔۔۔۔۔۔اے کاش ! ظاہر کے ساتھ ساتھ ہمارا باطن بھی سنور جاتا ، ۔۔۔۔۔۔اے کاش ! ہم بھی اخلاص و استقامت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامیاب ہو جاتے ،۔۔۔۔۔۔ اے کاش ! جن جن کے حقوق ہمارے ذمہ ہیں ،ہم ان کی ادائیگی کی کو شش میں لگ جاتے ،۔۔۔۔۔۔
نگرانوں اور ذمہ داران کے لئے فکرانگیز فرامینِ مصطٰفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
(امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی کے رسالے ''مردے کے صدمے ''سے ماخوذ)
(1) ''جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا نگران بنایا پھر اس نے ان کی خیر خواہی کا خیال نہ رکھا اس پر جنت کو حرام کر دیگا۔''
(بخاری ج ۲ ص ۱۰۵۸)
(2) ''تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اُس کے ماتَحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ''
(مجمع الزوائد ج۵ ص ۲۰۷)
(3) '' جو نگران اپنے ماتحتوں سے خِیانت کرے وہ جہنَّم میں جائے گا۔ ''
(مسند امام احمد بن حنبل ج ۵ ص۲۵)
(4) ''اِنصاف کرنے والے قاضی پر قِیامت کے دن ایک ساعَت ایسی آئے گی کہ وہ تمنّا کریگا کہ کاش ! وہ آدمیوں کے درمیان ایک کھجور کے بارے میں