Brailvi Books

احساس ذمہ داری
20 - 51
 تو انفرادی عبادت کا جذبہ شاید سویا ہوا نظر آئے اور بالفرض اگر انفرادی عبادت کی ترکیب بنی ہوئی ہو تو بھی اخلاص تلاشِ بسیار کے باوجود نہ ملے ۔آہ صد کروڑ آہ ! رونے کا مقام ہے کہ آج ہماری عبادتیں دکھاوے کی نذر ہو تی جارہی ہیں ،لوگوں کے درمیان توخوب عاجزی کے پیکر،حسن ِاخلاق کے مظہر اور سنتوں کے عامل بن کر رہتے ہیں لیکن جوں ہی تنہائی میسر آتی ہے تو یہ عاجزی کا پیکر،حسن ِاخلاق کا مظہر اور سنتوں کا عامل ہونے کی صفت نہ جانے کون سی اندھیری غار میں چھپ جاتی ہے کہ ڈھونڈے نہیں ملتی ۔ غور کیجئے !کہیں ایسا تو نہیں کہ عاجزی ، حسن ِ اخلاق اورسنت پر عمل کے دل کش مناظر صرف اور صرف لوگوں کے لئے تھے؟ کہیں ہم بھی تو اُن میں شامل نہیں جو لوگوں کودکھانے کے لئے تو نیکی کی دعوت کی خوب دُھومیں مچائیں، مدنی انعامات پر خوب عمل کریں،اسلامی بھائیوں کے درمیان کھانا کھاتے وقت خوب خوب سنتوں پر عمل کریں، پردے میں پردہ کریں لیکن جب گھر پر تنہا کھانا کھائیں تو نہ سنتوں پر عمل یاد رہے اورنہ ہی پردے میں پردہ کر کے بیٹھنا نصیب ہو ، جب لوگوں کے درمیان ہوں تو مغرب کے بعد نوافل کی خوب کثرت کریں مگر تنہائی میں فرض کے بعد والی دو سنتیں بھی مشکل سے ادا ہوں ،لوگوں کے درمیان تو سنجیدگی کا خوب مظاہرہ کریں لیکن جب گھر والوں کے ساتھ بیٹھیں تو مسخرے پن کے عادی نظر آئیں ، لوگوں کے درمیان تو خوب مسکرامسکر اکر باتیں کریں اور ذمہ داران کی خوب اطاعت کریں لیکن جب ماں باپ کوئی کام کہیں تو صاف انکا رکردیں اور ان کا دل دُکھا بیٹھیں وغیرہ ۔
    آہ! آہ! آہ! ہمارا یہ طرزِ عمل کہیں ہمیں آخرت میں ذلیل و رسوا نہ کروادے۔ جیساکہ۔۔۔۔۔۔
Flag Counter