(۱۹۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا جو ذبح کردی گئی ۔ پھر آپ نے اپنے خادم سے دریافت کیا کہ کیاتم نے اس میں سے ہمارے یہودی ہمسائے کو کچھ بھیجا ہے کیونکہ میں نے سرور ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ،'' جبرئیل امین علیہ السلام ہمیشہ ہمسائے کے حق کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ عنقریب ہمسایہ وراثت میں حصے دار بن جائے گا۔''
(۲۰۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' جبرئیل امین علیہ السلام ہمیشہ ہمسائے کے حق کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ عنقریب ہمسایہ وراثت میں حصے دار بن جائے گا۔''
(۲۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' جبرئیل امین علیہ السلام ہمیشہ ہمسائے کے حق کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ عنقریب ہمسایہ وراثت میں حصے دار بن جائے گا۔''
(۲۰۲تا۲۰۷)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرور ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' جبرئیل امین علیہ السلام ہمیشہ ہمسائے کے حق کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ عنقریب ہمسایہ وراثت میں حصے دار بن جائے گا۔''
(۲۰۸)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور