آپ نے ارشاد فرمایا،'' کیا ہم نے جس چیز کا ارادہ (اعلان) کیا تھا اسے پوراکردیا؟''تو لوگوں نے کہا ''جی ہاں۔'' حضرت سیدنا عبید اللہ بن عباس نے فرمایا کہ اس کے بعد اگر اورلوگ بھی آجائیں تو ہمیں پرواہ نہیں ۔''
(۱۸۹)۔۔۔۔۔۔ امام شعبی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ'' حضر ت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حضرت سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ(حاتم طائی کے بیٹے)کی طرف ہانڈی ادھارلینے کیلئے بھیجا۔ حضرت سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا،'' ہانڈی کو بھردو۔''اوراسے حضرت سیدنا اشعث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ حضرت سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لوٹا دیا اورفرمایا ،''میں نے تو خالی ہانڈی مانگی تھی۔''حضرت سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر ہانڈی واپس بھیج دی کہ'' ہم خالی برتن ادھا ر نہیں دیتے ۔''
(۱۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا کریب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین لوگ ایسے ہیں جن کی ہمسری کرنے کی طاقت مجھ میں نہیں اورچوتھا وہ شخص ہے جس کی کفایت مجھ سے اللہ ہی کرواسکتاہے ۔وہ تین لوگ جنکی میں ہمسری کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ایک وہ شخص جو اپنی مجلس میں میرے لیے جگہ کشادہ کر ے،دوسرا وہ جو شدید پیاس میں مجھے پانی پلائے ، تیسرا وہ جس کے قدم میرے دروازے پر آنے جانے میں غبار آلود ہوجائیں اور وہ چار جن کی مدد اللہ ہی مجھ سے کروا سکتا ہے۔اور چوتھا شخص وہ ہے جسے کوئی حاجت لاحق ہو اوروہ ساری رات فکر مندی میں جاگتا رہے کہ میری حاجت کون پوری کریگااورجب صبح ہوتو مجھے حاجت پوری کرنے والا پائے ، یہ ہی وہ شخص ہے کہ جس کی مجھ سے مدد اللہ ہی(اپنے فضل سے) کرواسکتاہے اورمجھے اس سے حیاء آتی ہے کہ