آنے والے کو کھانا کھلاتے تھے۔''یہ دیکھ کراس اعرابی نے کہا جو دنیا اورآخرت کی بھلائی چاہتا ہے وہ دارِعباس بن عبدالمطلب میں ضرور آئے کیونکہ یہ فتوی دیتے تھے اورلوگوں کوفقہ سکھاتے ہیں اورکھانا بھی کھلاتے ہیں ۔''
(۱۸۶)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ قربان گاہ میں جانور ذبح کرکے وہیں لوگوں کو کھلا دیا کرتے تھے ۔اسی وجہ سے مکہ کے بازارمیں وہ جگہ ابن عباس کی قربان گاہ کے نام سے مشہورہوگئی۔
(۱۸۷)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا علی بن محمد مرانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کیلئے ہر روز ایک اونٹ یا اسکے گوشت کے برابر بکریوں کو ذبح کیا جاتاتھا۔
(۱۸۸)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابان بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو رسوا کر نے کا ارادہ کیا اوروہ لوگوں کے سامنے جا کر کہنے لگا،'' حضرت سیدنا عبیدا للہ بن عباس نے تمہیں بلایا ہے کہ آج دوپہر کا کھانا میرے پاس کھاؤ ۔''یہ سن کر لوگ جو ق درجوق آئے اورآپ کا گھر بھر گیا ۔ حضرت سیدنا عبید اللہ بن عباس نے دریافت فرمایا،'' یہ لوگوں کو کیا ہوگیا ؟'' لوگوں نے عرض کی، ''حضور! آپ کا بھیجا ہوا شخص آیا تھا ۔'' تو حضرت سیدنا عبید اللہ بن عباس سارا ماجرا سمجھ گئے اور ارشاد فرمایا،'' دروازہ بند کردو ۔''اس کے بعد اپنے خدام کو بھیجا کہ،'' بازار سے سارے پھل لے آؤ ۔''(جب وہ پھل لے آئے تو)لوگوں نے اسے شہد سے ملا کر کھایا۔ آپ نے دوبارہ اپنے چند خدام کو بھیجا کہ'' بھنا ہوا گوشت اورروٹیاں لے آئیں ۔'' خدام روٹیاں لے آئے تولوگوں کو پیش کر دی گئیں ۔جب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو