Brailvi Books

حسنِ اخلاق
65 - 74
عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھے گئے توفرمایا،'' اسے اٹھاؤ اور کسی دوسرے سائل کو دے دو کہ میں اس کی نیت کرچکا ہوں۔''

(۱۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام تھے، ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیمار ہوئے تو میں نے آپ کے لئے ایک درہم کے انگور خریدے۔ جب میں نے وہ انگور آپ کے سامنے پیش کئے توایک سائل نے دروازے پرسوال کیا۔ آپ نے فرما یا ،''یہ اسے دے دو۔'' (میں نے دے دیا)پھرمیں نے اس سائل کے پیچھے کسی کو بھیجا کہ سائل سے یہ انگوراس طرح خریدے کہ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو پتا نہ چلے ۔ جب انگور دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کئے گئے تووہ سائل پھر آگیا ۔آپ نے پھرحکم فرمایا ،''یہ اُسے دے دو۔'' تین مرتبہ اسی طرح ہوااور ہر دفعہ سائل سے خرید کر آپ کو پیش کیا گیالیکن آپ نے ہر مرتبہ انگور آ نے والے سائل کو عطا کرنے کا حکم ارشاد فرمایایہاں تک کہ ہم نے سائل کو اس طرح ڈانٹا کہ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو خبر نہ ہو۔ 

(۱۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا خیثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عیسی ابن مریم علیہ السلام نے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو بُلایا پھر انہیں کھانا کھلایا اورپھر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا،''عبادت گزاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرو۔'' 

(۱۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابو قبصیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا خیثمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ کھجو ر کے حلوے کی ٹوکری اپنے تحت کے نیچے رکھا کرتے تھے۔ جب ان کے پاس قرآن پڑھنے والے (قراء) آتے تو آپ انہیں یہ حلوا دیا کرتے ۔

(۱۸۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عون علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا محمد