Brailvi Books

حسنِ اخلاق
64 - 74
جب آپ گھر سے باہر تشریف لائے تو ایسی چیز دیکھی جسکی مثل لوگوں نے پہلے نہ دیکھی تھی ۔ آپ نے غلام سے فرمایا،'' میرے پاس چمڑے کے بچھونے اورکلہاڑیاں لے کر آؤ۔'' چنانچہ چمڑے کے بچھونے اور اس ٹکڑے کو توڑنے کیلئے کلہاڑیاں پیش کی گئیں ۔ آپ نے فرمایا،'' جس کے ہاتھ جو آئے وہ اسی کا ۔''پھرآپ وہیں کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ ٹکڑا تما م کا تما م توڑ لیا گیا۔ جب یہ خبر خلیفہ عبدالملک کو پہنچی تو اس نے بہت پسند کیا اورکہنے لگا ،''وہ ہم میں سب سے زیادہ علم والے ہیں۔''

(۱۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو ایک اعلان کرنے والا لوگوں کے درمیان اعلان کر رہا تھا کہ'' جو کوئی گوشت وچربی کھانا چاہے سعد بن عبادہ کے گھر آجائے۔'' پھرآپ فرماتے ہیں کہ میری ملاقات ان کے بیٹے قیس سے ہوئی تووہ بھی یہی اعلان کر رہے تھے ۔ حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی،'' اے اللہ مجھے کامل تعریف کرنے کی توفیق عطا فرما، مجھے بزرگی عطا فرما،اوربزرگی تواعمال (خیر)کرنے میں ہے اوراعمالِ خیر مال سے ہی ممکن ہے ۔ اے اللہ قلیل مال میری کفایت نہیں کرسکتااورمیں بھی اس پر تکیہ نہیں کرسکتا۔''

(۱۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا نافع (حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر کے غلام)رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ روزہ رکھا کرتے اورحضرت سیدتنا صفیہ بنت عبید رضی اللہ عنہاان کی افطاری کے لیے کوئی چیز بنا دیا کرتی تھیں ۔ ایک دن وہ انار لے کر آئے تودروازے پرایک سائل نے سوال کیا ۔آپ نے فرمایا ،''یہ اُسے دے دو۔'' لیکن حضرت سیدنا صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی،'' اُس کیلئے اِس سے بہتر اورہے پھر مجھے انہیں کوئی اورچیز دینے کا کہا۔ جب وہ انار حضرت سیدنا عبداللہ بن