Brailvi Books

حسنِ اخلاق
63 - 74
کھانے کی دعوت دی توآپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت مبارک تلاوت فرمائی ،
''لِلَّذِیْنَ لَایُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا
ترجمہ کنزالایمان : جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اورنہ فساد ۔(پ ۲۰، القصص :۸۳)

    پھرآپ سواری سے نیچے تشریف لائے اوراُن کے ساتھ کھانا کھایا ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا،'' میں نے تمہاری دعوت قبول کی اب تم میری دعوت قبول کرو۔''پھر حضرت سیدنا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے ان کو سوار کیا اوراپنے گھر لاکر انہیں کھاناکھلایااورکپڑے اوردراہم عطا فرمائے۔ 

(۱۷۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمرو بن دیناررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ''حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا دسترخوان کشادہ اورگفتگو اچھی ہوتی تھی ۔''

(۱۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابو بکر القرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد فرماتے ہیں کہ حجاج نے ان کے لئے مصری(چینی) کا ایک بہت بڑا ٹکڑا بنایاجواتنا بڑا تھا کہ لوگ اسے چوپایوں پر بھی نہ لادسکتے تھے ۔ پھر اُسے ایک چھکڑے سے کھینچ کرخلیفہ عبدالملک کے پاس لایا گیا۔ وہ اپنے گھر سے باہر نکلااور اس کے حجم کو دیکھا اوراسکی ہیت کا اندازہ لگایا،اب وہ بھی نہ جانتا تھا کہ اس کا کیا کرے؟ چند لمحات سوچ کر اپنے غلام کو آواز دی اورکہا،'' اس کو حضرت سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ۔''اُن دنوں حضرت سیدنا عبداللہ بن جعفر انہیں کے پاس ہی ٹھہرے ہوئے تھے ۔ 

    جب اس شکر کے عظیم ٹکڑے کو ان کے رہائش گاہ کے قریب لایا گیا تو لوگ چیخے اوراس کو دیکھنے کیلئے جمع ہوگئے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن جعفر نے پوچھا،'' یہ کیا ہے ؟'' غلام نے عرض کی،'' یہ شکر کا ٹکڑا ہے جو امیر المومینن نے آ پ کے لیے بھیجا ہے ۔''
Flag Counter