Brailvi Books

حسنِ اخلاق
62 - 74
معلوم نہیں ، میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی کا سوا ل کیا تھا اور تُو نے اسے پانی نہ پلایا ،اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو ضرور اس کا اجر آج مجھ سے پاتا۔''
 (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃوالاٰداب ، باب فضل عیادۃ المریض ،رقم ۲۵۶۹، ص۱۳۸۹ )
 (۱۷۱)۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشاد فرمایا،'' میرا اپنے دوستوں کو ایک صاع کھانے پر جمع کرنا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں بازار جاؤں اورایک لونڈی خرید کر آزاد کردوں ۔''

(۱۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زوجہ یہ پیغام لے کر گئیں کہ'' ہم نے آپ کے لیے لذیذ کھانا اورخوشبوتیار کی ہے، آپ اپنے ہم پلّہ دیکھیں اورانہیں ساتھ لے کر ہمارے پاس تشریف لائیں ۔''حضرت سیدنا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ مسجد میں گئے اوروہاں جو مساکین وسائلین تھے انہیں لے کر گھر تشریف لے گئے ۔ ہمسایہ خواتین بھی آپ کی زوجہ کے پاس آگئیں اورآپ کی زوجہ سے کہنے لگیں ،''خدا کی قسم تمہارے گھر تو مساکین جمع ہوگئے۔'' پھر حضرت سیدنا اما م حسین اپنی زوجہ کے پاس تشریف لائے اورفرمایا ،''میں تمہیں اپنے اس حق کی قسم دیتاہوں جو میرا تجھ پر ہے کہ تم کھانا اورخوشبو بچا کر نہیں رکھو گی ۔'' پھر انہوں نے ایسے ہی کیا ۔آپ نے مساکین کو کھانا کھلایا انہیں کپڑے پہنائے اورخوشبو لگائی۔

(۱۷۳)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا اسماعیل بن ابوخالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی سواری کا گزر مساکین کے پاس ہوا وہ بچے کھچے ٹکڑے کھا رہے تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام ارشاد فرمایا ۔ مساکین نے آپ کو
Flag Counter