Brailvi Books

ہیروئنچی کی توبہ
29 - 32
ایک مرتبہ میں گرفتار بھی ہوا مگر جلد ضمانت پر رہائی مل گئی ۔ میں مزید دلیر ہوگیااورعلاقے میں بطورِ بدمعاش میرا شہرہ ہونے لگا ۔کم سن ہونے کے باوجود کسی سے ڈرے بغیر اس پر حملہ کردیتا تھا ۔میرے والدین مجھے سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے حتّی کہ انہوں نے مجھے گھر سے نکال دینے کی دھمکی بھی دی مگر مجھ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ۔میں ظلم کے انجام سے بے خبر دل ہی دل میں بڑا خُوش ہوتا تھا کہ اپنی بدمعاشی کی خُوب دھاک بیٹھی ہوئی ہے ۔میرے شب وروز یونہی گناہوں میں بسر ہورہے تھے ۔میرے سدھرنے کے اسباب یوں بنے کہ ایک دن میں نے گلی کے کونے پر سبزعمامے والے اسلامی بھائی کو کسی کتاب سے درس دیتے دیکھا ۔میں بھی اس کے قریب جاکھڑا ہوا ۔مجھے وہ درس بہت اچھا لگا ۔ میں نے کتاب پر نظر ڈالی تو اس پر لکھا تھا ''فیضانِ سنت''۔درس دینے والے اسلامی بھائی نے مجھ سے بڑی محبت سے ملاقات کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے مَدَنی قافلے کی دعوت پیش کی ۔ فیضان سنت کے درس کی شیرینی ابھی تک میرے کانوں میں رس گھول رہی تھی ۔ چنانچہ میں نے چون و چرا کئے بغیر مَدَنی قافلے میں سفر کی نیت کر لی اور عاشقانِ رسول کے ہمراہ 3دن کیلئے مَدَنی قافلے میں سفراختیار کیا ۔شرکائے قافلہ کی انفرادی کوشش اور مَدَنی قافلے کے جَدْوَل نے مجھے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا دیا۔ باجماعت