اسلامی بھائی نے مجھ پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتوں کے بارے میں بتایا اور مجھے عاشقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی ترغیب دلائی ۔میں پہلے ہی متأثر ہوچکاتھا لہٰذا میں نے ہاتھوں ہاتھ مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی نیت کی ۔پھر میں نے مَدَنی قافلے میں سفر بھی کیا ۔مَدَنی قافلے میں سفر کے دوران شرکائے قافلہ کے حُسن اخلاق اور شفقتوں کی بارش نے میرے دل کی گندگی کو دھو کر اُجلا اُجلا کردیا ۔ان کی محبتیں دیکھ کر میری آنکھیں بھیگ جاتیں کہ میں وہ بُرا بندہ ہوں جسے اپنے گھر والے بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ميں نے ان خيالات کا اظہارجب ایک اسلامی بھائی سے کيا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے مجھے اپنے سينے سے لگا ليا کہ جس کو دنيا برا بھلا کہتی ہے دعوتِ اسلامی والے الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ انہيں بھی اپنے سینے سے لگالیتے ہيں ۔ محبت کے مزید جام پینے کے لئے میں وہیں سے12 دن کیلئے مدنی قافلے ميں سفر پر روانہ ہوگيا۔ جب ميں مَدَنی قافلے سے واپس آيا تو ميرے سر پر سبز عمامہ تھا اور جسم پر صاف ستھرا سنّت کے مطابق سفيد لباس تھا اور چہرے پر داڑھی شريف نمودار ہوچکی تھی۔محلے والے مجھے اس مَدَنی حلئے میں دیکھ کر حيران رہ گئے کہ يہ وہی لڑکا ہے جس سے پورا محلہ بیزار تھا۔ میں اپنے گناہوں سے توبہ کر کے واپس آیا تھا لہٰذا اہلِ محلّہ اور گھر والوں نے بھی مجھے قبول