مجھے بُرا بھلا کہتے،سمجھاتے ، مگرمیں ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا ۔تنگ آکر اُنہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا کہ اس کو کچھ تو اپنی غلطی کا احساس ہو مگرمجھے اپنی غلطی کا احساس کیونکر ہوسکتا تھا ؟میرے دل ودماغ پر تو نشے کا سُرور چھایا ہوا تھا ۔آخر کار میری حالت ايسی ہو گئی کہ ميں ٹھیک سے چل بھی نہيں سکتا تھا ۔فکرِ آخرت تو دُور کی بات، مجھے تو دُنیا کی فکر بھی نہیں رہی تھی ۔ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتے کرتے شاید میں نشے کی حالت میں اس دُنیا سے رُخصت ہوجاتا مگر امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اور دعوتِ اسلامی پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتوں کا نزول ہو کہ انہوں نے مجھے تباہی کے گڑھے سے نکال کر جنت میں لے جانے والے راستے پرگامزن کردیا ۔
ہوا یوں کہ ايک روز ميں لڑکھڑاتا ہوا کہیں جارہا تھا کہ کسی نے بڑی نرمی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکا۔ ميں نے بمشکل نگاہ اٹھا کر دیکھا تو یہ بڑی عمر کے ايک باريش اسلامی بھائی تھے جنہوں نے سفيد لباس پہنا ہوا تھا اور ان کے سر پر سبز عمامہ بھی تھا ۔ انہوں نے انتہائی شفقت سے میری خیریت دریافت کی۔ميں نے زندگی ميں پہلی بار ایسی اپنائیت پائی تو بڑا اچھا لگا ۔مختصر سی گفتگو کے بعد يہ اسلامی بھائی مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور ناشتہ کرايا ۔ایسا محبت بھرا برتاؤ تو میرے ساتھ کبھی گھر والوں نے نہیں کیا تھا ۔ ان کی شفقتیں دیکھ کر سبز عمامے والوں کی محبت میرے دل میں گھر کرنے لگی ۔ اس