دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت ملی تو میں نے آپ دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کو اپنے قبولِ اسلام کی بہار سُنائی اوراپنے والدین و دیگر گھر والوں کے اسلام قبول کرنے کی دُعا کے لئے درخواست کی۔ آپ میرے قبولِ اسلام کا سن کر بہت خوش ہوئے ،مجھے سینے سے لگایا، دُعا کی اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جلد آپ کے گھر والے بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ نواب شاہ واپس آنے کے بعد میں نے گھر والوں کو امیرِاَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے رسائل پڑھانے اور وقتاً فوقتاً انفرادی کوشش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ایک ولی کامل کی دُعا کی بَرَکت سے صرف15یا 20دن کے اندراندر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ والدین سمیت گھر کے تقریباً13افراد نے قادیانیت سے توبہ کرکے اسلام قبول کرلیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ توجہ مرشد سے میں نے اپنے خاندان کے دیگر افراد پر بھی انفرادی کوشش کی ۔ جس کی بَرَکت سے کم و بیش 2سال بعد میرے پھوپھا جان ' گھر کے تقریباً17افراد سمیت لوگوں کے ہجوم میں قادیانیت سے توبہ کرکے مسلمان ہوگئے۔وہ دعوتِ اسلامی اور امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے بے حد متاثر تھے ۔ اسلام قبول کرنے کے تقریباً 2سال بعد کم و بیش60سال کی عمرمیں نَماز ادا کرنے کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے مسجد ہی میں ان کی رُوح قفسِ