سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنت کے مطابق بدن پر سفید لباس اورسر پر زُلفیں،بقدرِ ضرورت گفتگو کا باادب انداز ،خوش اخلاقی اورملنساری دیکھ کر مجھ پر ایک ہیبت سی طاری ہوگئی۔بے ساختہ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اب میں اپنے دل میں اِسلام کی محبت محسوس کرنے لگا مگر کسی سے اظہار نہ کرسکا۔ اگلی جمعرات جب میں اجتماع میں پہنچا تو میں نے ایک مبلغ کو اپنے بارے میں بتا کر روتے ہوئے عرض کی کہ مجھے مسلمان کرلیجئے ۔انہوں نے فوراً مجھے قادیانیت سے توبہ کرواکر کلمہ طیبہ پڑھوایااور یوں میں اسلام جیسی عظیم دولت سے مالامال ہوگیا۔یہ اطلاع جلد ہی گھر تک پہنچ گئی۔ میرے والد یہ سُن کر آپے سے باہر ہوگئے اور مجھے خُوب بُرا بھلا کہا بلکہ مارابھی ۔مگر مدَنی ماحول کی بَرَکت سے میں نے زبان چلانے کے بجائے صبر کیا ۔میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔ مجھے روتا دیکھ کر والد بھی نرم پڑگئے اور مجھے پیار سے سمجھانے لگے۔ مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میرے دل میں اسلام کی محبت دن بدن بڑھتی چلی گئی۔ میں پابندی سے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے لگااور امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے ہاتھوں بیعت ہوکر ''عطّاری''بھی بن گیا۔
کچھ عرصے بعد باب المدینہ کراچی (گلزارِ حبیب مسجد)میں امیرِ اَہلسنّت