Brailvi Books

ہیروئنچی کی توبہ
22 - 32
ہوئے مجھے بھی دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں چلنے کی دعوت دیتے لیکن میں چونکہ حقیقتاً قادیانی تھا اور گھر والوں کی طرف سے مذہبی لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے کی سختی سے ممانعت تھی، لہٰذا ٹال مٹول کرجاتا۔ایک روز میرے جی میں آئی کہ چل کر دیکھنا چاہے کہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں ایسی کیا بات ہے کہ یہ بے نمازی اور ماڈرن نوجوان کچھ ہی عرصے میں نہ صرف نمازی بلکہ تہجد گزاراور سنّتوں کے عامل بن گئے ، یہ اپنے پیرومرشد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے تقویٰ و پرہیزگاری کا بار بار بڑی عقیدت سے تذکرہ کرتے ہیں ،اُن سے بھی ملنا چاہے کہ وہ کیسی ہستی ہیں ؟

     یوں ایک بار میں اِن کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے نواب شاہ شہر میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں جاپہنچا۔ یہ غالباً 1988؁ء کی بات ہے۔ وہاں میں نے مبلغِ دعوتِ اسلامی کا بیان سُنا جو بڑا دلنشین اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی صداؤں اوررو رو کر کی جانے والی دُعا نے مجھے بَہُت متأثر کیا ۔ پھر جب سب نے کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پڑھنا شروع کیا تو میں بھی شامل ہوگیا۔ اس کا سُرُور بیان سے باہر ہے۔میں نے اُس اجتماع میں کثیر نوجوانوں کو دیکھا جن کے چہروں پرداڑھیاں اور سروں پر سبزسبز عمامے تھے۔ان کے چہروں کی نورانیت ، حیاء