الملفوظ ،حصّہ دُوُم ص143 پرہے ، میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ''ایک سال رَمَضانُ الْمبارَک سے تھوڑا عرصہ قبل والِد ِمرحوم حضرتِ رئیسُالْمُتَکَلِّمِین سَیِّدُنا و مولیٰنا نَقی علی خان علیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: بیٹا ! آئندہ رَمَضان شریف میں تم سَخت بیمارہوجاؤ گے ، مگر خَیال رکھنا کوئی روزہ قَضاء نہ ہونے پائے۔ چُنانچِہ والدصاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حسبُ الْارشاد واقِعیرَمَضانُ الْمبارَک میں سَخت بیمار ہوگیا۔لیکن کوئی روزہ نہ چُھوٹا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! روز وں ہی کی بَرَکت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے صِحّت عطا فرمائی۔اور صِحّت کیوں نہ ملتی کہ سَیِّدُالْمَحبُوبِین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ پاک بھی تَو ہے: صُوْمُوْا تَصِحُّوا یعنی روزہ رکھو صِحَّتیاب ہو جاؤ گے۔''
( دُرِّمَنثور ،ج۱،ص۴۴۰)