Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
91 - 649
 (2) یَّتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیۡغُہٗ وَیَاۡتِیۡہِ الْمَوْتُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ؕ وَمِنۡ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیۡظٌ ﴿17﴾
ترجمۂ کنزالایمان :بمشکل اس کاتھوڑاتھوڑاگھونٹ لے گا اورگلے سے نیچے اتارنے کی امیدنہ ہوگی اوراسے ہرطرف سے موت آئے گی اورمرے گانہیں اوراس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب۔ ( ۱ )(پ13، ابراھیم:17)

    پھر وہ روتی ہوئی اسی آیت کودہراتی رہی یہا ں تک کہ بے ہو ش ہو کر زمین پر گرپڑی جب میں نے اُسے حرکت دی تو اس کی رُوح قَفَسِ عُنصری سے پرواز کر چکی تھی۔

    سبحان اللہ عزَّوَجَلَّ! ان لوگوں کی خوبیاں ہیں جنہوں نے اپنے چہروں کو غم وحزن کے آنسوؤں سے دھویا، ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ اورتلاوتِ کلام باری تعالیٰ سے راتوں میں اپنی آنکھوں کوبیدار رکھا اوراللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے قدموں پر کھڑے رہے اور اچھے اعمال بجالانے کی کوشش کرتے رہے۔ پس ان کا ہر لمحہ رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں جیسا ہے۔

    میرے پیارے اسلامی بھائیو! کتنا نیک بخت ہے وہ شخص! جس کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے قبولیت کی خلعت بخشی، کتنا انعام و اکرام ہے اس شخص پر! جسے اللہ تعالیٰ نے انتہائے مقصود تک پہنچایا۔ اور کتنا بدبخت ہے وہ شخص! جس کے روزے مردود ہو گئے اور گناہوں پر اس کی پکڑ ہو گئی، اس کے ماہ وسال بیکار گزر گئے اور اس نے اپنے نفس کی خواہش کو رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری پر ترجیح دی یہا ں تک کہ اس کی موت کا وقت آگیا۔
ہَرِیسہ کھانے کی خواہش:
    منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا بشرحافی علیہ رحمۃاللہ الکافی نے پچاس سال تک ہریسہ (جو آٹے میں گھی اور شکر ملا کر بنا یا جاتا ہے) تناول نہ فرمایا، ایک دن آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک درہم تھا جس سے ہریسہ خریدنے کے لئے بازار گئے تو ہریسہ بیچنے والے کو یہ کہتے ہو ئے سناکہ ''روزے داروں کے لئے کون سی چیز چھپائی گئی ہے؟تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ روتے ہوئے واپس لوٹ آئے اور ہریسہ نہ خریدا۔ کچھ عر صے کے بعدنفس پھرمطا لبہ کرنے لگا، چنانچہ پھر بازار ہریسہ خریدنے گئے تو ملاحظہ فرمایاکہ وہی ہریسہ بیچنے والا کہہ رہا تھا: ''بہت تھوڑابا قی رہ گیاہے۔''تو آپ پھر روتے ہو ئے وا پس ہو گئے اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے عہد کر لیاکہ آئندہ کبھی بھی اس کو نہ چکھوں گا۔
1۔۔۔۔۔۔مفسِّر شہیر، خلیفۂ اعلیٰحضرت، صدرالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''حدیث شریف میں ہے کہ جہنمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ جب وہ منہ کے پاس آئے گا تو اس کو بہت ناگوار معلوم ہوگا۔ جب اور قریب ہو گاتو اس سے چہرہ بھُن جائے گا اور سر تک کی کھال جل کر گر پڑ ے گی۔ جب پئے گا توآنتیں کٹ کر نکل جائیں گی۔ (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ) یعنی ہر عذاب کے بعد اس سے زیادہ شدید و غلیظ عذاب ہوگا۔
 نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ۔''
Flag Counter