| حکایتیں اور نصیحتیں |
کی راتیں اتی ہیں تو وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے زمین پراترنے کی اجازت طلب کرتے ہیں اورآقائے دوجہاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی امت کے سا تھ نمازِتراویح میں حا ضرہوتے ہیں، اگر کوئی ان کو چھوئے یا وہ اس کو مَس کریں تووہ ایسا سعادت مند ہو جائے گاکہ اس کے بعد کبھی بدبخت نہ ہوگا۔'' جب امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث سنی توارشاد فرمایا: ہم اس فضل واجر کے زیا دہ حق دار ہیں۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ماہِ رمضان میں لوگوں کو باجماعت نمازِتراویح کا حکم فرمایا۔
عوام وخواص کی عید کی ضروریات:
حضرتِ سیِّدُنامحمدبن ابی فَرَج رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''مجھے ماہِ رمضان میں ایک خادمہ کی ضرورت پڑی جوہمیں کھانا تیار کردے،میں نے بازارمیں ایک خادمہ کو دیکھا جس کی کم قیمت میں بولی دی جارہی تھی، اس کاچہرہ زرد، بدن کمزوراورجِلد خشک تھی۔ میں اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے خرید کر گھر لے آیا اورکہا: ''برتن پکڑو اور رمضا ن کی ضرور ی اشیاء کی خریداری کے لئے میرے ساتھ بازار چلو۔'' تو وہ کہنے لگی: ''اے میرے آقا! میں تو ایسے لوگوں کے پاس تھی جن کا پورا زما نہ رمضان ہوا کرتا تھا۔'' اس کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ یہ ضرور اللہ عزَّوَجَلَّ کی نیک بندی ہوگی۔ وہ ماہِ رمضا ن میں ساری رات عبادت کرتی اورجب آخری رات آئی تومیں نے اس کو کہا:''عید کی ضروری اشیا ء خریدنے کے لئے ہمارے ساتھ بازار چلو۔'' تو وہ پوچھنے لگی: ''اے میرے آقا! عام لوگوں کی ضروریات خریدیں گے یا خاص لوگوں کی؟ میں نے اس سے کہا: ''اپنی بات کی وضاحت کرو؟'' تواس نے کہا: ''عام لوگوں کی ضروریات تو عید کے مشہور کھانے ہیں، جبکہ خاص لوگوں کی ضروریات مخلوق سے کناراکَش ہونا،خدمت کے لئے فارغ ہونا، نوافل کے ذریعے اللہ عزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرنااور عاجزی وانکساری کرناہے۔ ' '
یہ سُن کر میں نے کہا: ''میری مراد کھانے کی ضروری اشیاء ہیں ۔'' اس نے پھر پوچھا: ''کون سا کھانا؟ جو جسموں کی غذا ہے یا دِلوں کی؟'' تومیں نے کہا: ''اپنی بات واضح کرو؟'' تواس نے مجھے بتایا: ''جسموں کی غذا تومعروف کھانا اور خوراک ہے جبکہ دلوں کی غذا گناہوں کو چھوڑنا، اپنے عیب دُور کرنا، محبوب کے مشاہدہ سے لُطف اندوز ہونا اور مقصود کے حصول پر راضی ہونا لیکن ان چیزوں کے لئے خشوع، پرہیزگاری، تکبر کو چھوڑنا، مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرنا اور ظاہر وباطن میں اس پر بھروسہ کرنا ضروری ہے۔''پھر وہ لو نڈ ی نما ز کے لئے کھڑی ہو گئی، اس نے پہلی رکعت میں پوری سورۂ بقرہ پڑھی، پھراٰل عمران شروع کر دی، پھر ایک سورت ختم کر کے دوسری سورت شروع کرتی رہی یہا ں تک کہ سورۂ ابراہیم کی ا س آیت تک پہنچ گئی: