| حکایتیں اور نصیحتیں |
سُبْحَانَ مَنْ تَصَدَّقَ عَلَیْکُمُوْ بِصِیَامِکُمْ وَخَصَّکُمْ بِالْعَطَایَا یَا اُمَّۃَ الْمُخْتَار تَأتُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَصَوْمُکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ حَیْثُ إتَّجَھْتُمْ تَوَجَّہَ وَحَیْثُ سِرْتُمْ سَارَ مَحْمُوْلٌ فَوْقَ الْغَنَائِمِ عَلٰی یَدِ الْمَلٰئِکَۃِ شُعَاعُہُ یَتَلَالَأُ مِنْ کَثْرَۃِ الْاَنْوَار وَتُقَدِّمُوْنَ الْمَؤقَفَ تَجَلُّوْا عَلٰی کُلِّ الْا ُمَمِ مِثْلَ الشُّمُوْسِ وَفِیْکُمْ مَنْ یُشْبِہُ الْاَقْمَار وَقَدْ صَفَا الْوَقْتُ لِمَا نَادَاکُمُوْ مَوْلَاکُمْ قُوْمُوْا تَعَالَوْا تَمَلُّوْا بِالْوَصْلِ یَا زَوَّار ہٰذَا جَمَالِیْ تُبْدِیْ وَالْحُبُّ عَنْکُمْ رَفَعْتُ وَنُوْرُنَا قَدْ تَجَلَّی وَزَالَتِ الاَکْدَار
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔افسوس نافرمانوں پر کہ( نافرمانی کے باوجود)رب کی پناہ طلب کرتے ہیں،افسوس اس پر جس کا رب اس سے ناراض ہو۔
(۲)۔۔۔۔۔۔افسوس اس پر جس نے اپنی غفلت کے سبب کھلے عام نافرمانی کی اور اپنی خطاؤں سے توبہ نہ کی۔
(۳)۔۔۔۔۔۔افسوس اس غمزدہ گنہگار پر جو( گناہ کرتے وقت) تواللہ عزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتا پھر خوفزدہ ہوتا ہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔افسوس اس پر جو ایسے بابرکت مہینے میں بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے معافی نہ پا سکا۔
(۵)۔۔۔۔۔۔افسوس اس پر جس نے دھوکے میں دارِ آخرت کو دنیا کے گھر کے بدلے بیچ دیا۔
(۶)۔۔۔۔۔۔اے امتِ محمدیہ! پاک ہے وہ ذات جس نے تم پر روزوں کے سبب احسان فرمایا اور تمہیں اپنی خاص عنایات سے نوازا۔
(۷)۔۔۔۔۔۔قیامت کے دن تم آؤ گے اور تمہارا روزہ تمہارے اوپر اس طرح ہو گا کہ تم جدھر متوجہ ہوگے وہ بھی ہو گا اور تم جدھر چلو گے وہ بھی چلے گا۔
(۸)۔۔۔۔۔۔فرشتے اپنے ہاتھوں میں انعامات اٹھائے ہوں گے اوران کی کرنیں کثرتِ انوار سے جگمگا رہی ہوں گی ۔
(۹)۔۔۔۔۔۔تم سب سے پہلے میدانِ محشر میں پہنچو گے اور تمام امتوں کے سامنے سورج کی طرح چمک رہے ہو گے اور تم میں سے بعض کے چہرے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔
(۱0)۔۔۔۔۔۔جب تمہارا رب عزوجل تمہیں فرمائے گا: اے میرا دیدار کرنے والو! کھڑے ہو جاؤ اور آکر میرے دیدار سے لطف اندوز ہوجاؤ۔
(۱۱)۔۔۔۔۔۔میں نے اپنا جمال تم پر ظاہر کردیا ہے اور تمہارے سامنے سے تمام پردے اٹھادئیے۔پس اس وقت ہمارا نورچمک اُٹھے گا اور تمام کثافتیں ختم ہو جائیں گی ۔
اے میرے اسلامی بھا ئیو!کہا ں ہیں حرام سے بچنے اورحلال اختیارکرنے والے؟ کہاں ہیں اپنی زبان کوغیبت و چغلی سے بچانے والے اور اعتراضات سے اعراض کرنے والے؟ کہاں ہے اپنی نظرکوشہوات سے روکنے اور حلا ل کی پیروی کرنے والے؟ کہاں ہیں رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے روزے رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے؟ماہِ رمضان میں اہل وعیال پر خرچ کرنے کی فضیلت:
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے، جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا