Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
82 - 649
کر دیتا ہے۔ روزہ جہنم سے ڈھال ہے اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک مشک سے زیا دہ پاکیزہ ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ بیہودہ بکے، نہ ہی جاہلانہ کام کرے۔ اگر کوئی اُس سے لڑائی کرے یا اُسے گالی دے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔''(۱)
    (جامع الترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی فضل الصوم، الحدیث۷۶۴، ص۱۷۲۲۔ سنن ابن ماجۃ، ابواب الصیام، باب ما جاء فی فضل الصیام ،الحدیث ۱۶۳۸،ص ۲۵۷۵۔صحیح مسلم،کتاب الصیام، باب فضل الصیام، الحدیث۱۱۵۱، ص۸۶۲)
    حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:''جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی اللہ عزَّوَجَلَّ کوکچھ حا جت نہیں۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الصوم ،باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم،الحدیث۱۹0۳، ص۱۴۹)
    حدیث ِ پاک میں ہے کہ'' غیبت روزے دار کا روزہ ختم کر دیتی ہے۔''(۲)
 (فتح الباری لابن حجرالعسقلانی شرح صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب فضل الصوم،تحت الحدیث۱۸۹۴،ج۵،ص۹۲)
روزے دار کے لئے دوخوشیاں:
    حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ فرحت نشان ہے:''روزے دار کے لئے دو خو شیاں ہیں:ایک افطا ر کے وقت اور دوسری اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ملاقا ت کے وقت۔''
   (صحیح مسلم ،کتاب الصیام ، باب فضل الصیام، الحدیث۱۱۵۱، ص۸۶۲)
وَقَدْ صُمْتُ عَنِ اللَّذَاتِ دَہْرِیْ کُلَّہَا	وَیَوْمَ لِقَاکُمْ ذَاکَ فِطْرُ صِیَامِیْ
    ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔بے شک میں نے اپنی ساری زندگی لذَّات سے روزہ رکھا(یعنی انہیں چھوڑے رکھا) اورتیرے دیدار کے دن ہی میرا روزہ افطار ہو گا۔
1۔۔۔۔۔۔شیخِ طریقت، امیرِ اہلست حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:میٹھے ميٹھے اسلامی بھائیو! آجکل تَو مُعامَلہ ہی اُلٹا ہو گیا ہے یعنی اگر کوئی کسی سے لڑ بھی پڑتا ہے تو گَرَج کر یُوں گویا ہوتا ہے،''چُپ ہوجا! ورنہ یاد رکھنا! میں روزے سے ہوں اورروزہ تجھ ہی سے کھولوں گا۔'' یعنی تجھے کھاجاؤں گا۔(مَعاذاللہ عَزَّوَجَلَّ) توبہ! تَوبہ! اِس قِسم کی بات ہر گز زَبان سے نہ نکلنی چاہیئے بلکہ عاجِزی کا مُظاہَرہ کرنا چاہیئے۔''
 (فیضانِ سنت، باب فیضانِ رمضان، ج اول، ص۹۶۸)
2۔۔۔۔۔۔صدر الشریعہ، بدر الطریقہ ،مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: ''احتلام ہوا یا غیبت کی تو روزہ نہ گیا اگرچہ غیبت بہت سخت کبیرہ ہے قرآن مجید میں غیبت کرنے کی نسبت فرمایا: ''جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا۔'' (پ۲۶، الحجرات:۱۲)اور حدیث میں فرمایا: ''غیبت زنا سے بھی سخت تر ہے۔''
 (المعجم الاوسط، الحدیث ۶۵۹0،ج۵،ص۶۳)
اگرچہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیت جاتی رہتی ہے۔''
(بہارِ شریعت،حصہ۵، ص۱۱۹)
Flag Counter