(السنن الکبری للنسائی،کتاب الصیام،باب ثواب من قام رمضان وصامہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۵۱۳، ج۲، ص۸۸)
شب ِ قدر میں عبادت کی فضیلت:
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ عالیشان ہے: ''جو ایما ن کی وجہ سے اور ثواب کے لئے شب ِ قدر کا قیام کرے اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔''(۱)
(صحیح البخاری ،کتاب الصوم ، باب من صام رمضان ایمان واحتساب وفیہ، الحدیث ۱۹0۱ ،ص ۱۴۸)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے : ''روزے کے علاوہ بندے کی ہر نیکی دس سے سا ت سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے کیونکہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش اور کھانے پینے کو میرے لئے ترک
1۔۔۔۔۔۔شیخِ طریقت، امیرِ اہلست حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ''سُبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! رَمَضانُ الْمبارَک میں رَحمتوں کی چَھمَاچَھم بارِشیں اور گناہِ صغیرہ کے کَفّارے کاسامان ہوجاتا ہے۔ گناہِ کبیرہ توبہ سے مُعاف ہوتے ہیں۔ توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جوگناہ ہوا خاص اُس گناہ کا ذِکْر کرکے دل کی بَیزاری اور آئندہ اُس سے بچنے کا عہدکرکے توبہ کرے۔ مَثَلاًجھوٹ بولا، تو بارگاہِ خُداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کرے، یا اللہ عزَّوَجَلَّ! میں نے جویہ جھوٹ بولا اِس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔ توبہ کے دَوران دل میں جھوٹ سے نفرت ہو اور'' آئِندہ نہیں بولوں گا'' کہتے وَقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کرو ں گاجبھی توبہ ہے۔ اگر بندے کی حق تلفی کی ہے تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُس بندے سے مُعاف کروانا بھی ضَروری ہے۔''
(فیضانِ سنت، باب فیضانِ رمضان، ج اول، ص۸۵۵)