| حکایتیں اور نصیحتیں |
(۴)۔۔۔۔۔۔اے وہ شخص جس نے اس کی راتوں میں قیام کیا اورجس کے رخساروں پر آنسو موتیوں کی مانند ہیں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔یہ وہ شخص ہے جسے رب عزوجل جنتِ خُلد اورانتہائی حسین وجمیل حُوریں عطا فرمائے گا۔
ہر قسم کے انعامات واحسا نات پرمیں اپنے ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرتاہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ''اللہ عزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو زبا ن پر تو ہلکی ہے لیکن میزانِ میں بھا ری بہت بھاری ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہو ں کہ حضرت سیِّدُنا محمد ِمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی آل، صحابۂ کرام، تمام ازواجِ مطہرات ر ضوا ن اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اولاد اور بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود بھیجے۔اللہ عزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہےـ:
''شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ ۚ
تر جمۂ کنزالایمان: رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترالوگوں کے لیے ہدایت اورراہنمائی اورفیصلہ کی روشن باتیں۔(پ۲،البقرہ:۱۸۵)
(حضرتِ سیدنا شعیب حریفیش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ) مہینے کو مشہور ہونے کی وجہ سے شھر کہا جاتا ہے اورماہِ رمضان کو رمضان اس لئے کہتے ہیں کہ یہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان
''اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ''
سے مراد یہ ہے کہ اس کے فرض روزوں میں قرآنِ کریم اُتارا گیا۔
حضرتِ سیِّدُنا ابن عبا س وا بن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں: ''مکمل قرآنِ حکیم لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر ایک ہی دفعہ ماہِ رمضان، شب ِ قدرمیں نازل کیا گیا۔ پھرحضرتِ سیِّدُنا جبرائیلِ امین علیہ السلاموقتًا فوقتًا واقعات وحوادثات کے مطابق اسے حضور نبئ پاک، صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس لاتے رہے۔''شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں:
حضور نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: ''جب ماہ ِرمضان آتا ہے تو جنت کے در وا زے کھول دئیے جا تے ہیں،جہنم کے دروازے بند کر دئیے جا تے ہیں اور شیا طین زنجیروں میں جکڑ دیئے جا تے ہیں ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الصیام ،باب فضل شھر رمضان الحدیث ۱0۷۹ ،ص ۸۵0)
جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں:
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''جب ما ہِ رمضا ن کی پہلی را ت آتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جا تے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا اور