Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
79 - 649
فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :توتم میں جوکوئی بیمار یا سفر میں ہوتواتنے روزے اوردنوں میں۔(پ۲،البقرہ:۱۸۴)(۱)

    پا ک ہے وہ جس نے اس امت پر احسان فرمایا اور اس کو بہت زیا دہ فضلیت عطا فرمائی اورماہِ رمضان کو اس کی مغفرت کے سا تھ خاص کر دیا:
''شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترالوگوں کے لیے ہدایت اورراہنمائی اورفیصلہ کی روشن باتیں۔(پ۲،البقرہ:۱۸۵)(۲)
قَدْ جَاءَ شَھْرُ الصَّوْمِ فِیْہِ الْاَمَان		وَالْعِتْقُ وَالْفَوْزُ بِسُکْنَی الْجِنَان

شَھْرٌ شَرِیْفٌ فِیْہِ نَیْلُ الْمُنَی		وَھُوَ طِرَازٌ فَوْقَ کَمِ الزَّمَان

طُوْبٰی لِمَنْ صَامَہ، وَاَتْقَی			مَوْلَاہ، فِی الْفِعْلِ وَنُطْقِ اللِّسَان

وَیَا ھُنَا مَنْ قَامَ فِیْ لَیْلِہٖ			وَدَمْعُہ، فِی الْخَدِّ یَحْکِیْ الْجُمَان

ذَاکَ الَّذِیْ قَدْ خَصَّہ، رَبُّہ،		بِجَنَّۃِ الْخُلْدِ وَحُوْرِ الْحُسَّان
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔بے شک رمضان کا مہینہ آگیا، اس میں امن، جہنم سے آزادی اورجنّت میں ٹھہرنے کے ساتھ کامیابی ہے ۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔اس ماہِ مبارک میں بندہ اپنی آرزوئیں پوری کرتا ہے اور یہ کتنے ہی زمانوں سے بہتر نمونہ ہے ۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔اس کے لئے خوشخبری ہے جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے اوراللہ عزَّوَجَلَّ نے اُسے برے کاموں اور زبان کی لغزش سے محفوظ فرمایا۔
1۔۔۔۔۔۔مفسِّر شہیر، خلیفۂ اعلیٰحضرت، صدرالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' سفر سے وہ مراد ہے جس کی مسافت تین دن سے کم نہ ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مریض و مسافر کو رُخصت دی کہ اگر اس کو رمضان مبارک میں روزہ رکھنے سے مرض کی زیادتی یا ہلاک کا اندیشہ ہو یا سفر میں شدت و تکلیف کا تو وہ مرض و سفر کے ایَّام میں افطار کرے اور بجائے اس کے(یعنی اس کی جگہ) ایام منہیَّہ (یعنی ممنوع دنوں) کے سوا اور دِنوں میں اس کی قضا کرے۔ایام منہیّہ پانچ دن ہیں جن میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ دونوں عیدین اور ذی الحجہ کی گیارہویں، بارہویں، تیرہویں تاریخیں۔ مسئلہ : مریض کو محض وہم پر روزے کا افطار جائز نہیں جب تک دلیل یا تجربہ یا غیر ظاہرُا لفسق طبیب (یعنی جو ظاہری طور پر فاسق نہ ہو)کی خبر سے اس کا غلبۂ ظن حاصل نہ ہو کہ روزہ مرض کے طول یا زیادتی کا سبب ہوگا۔ مسئلہ : جو بالفعل بیمار نہ ہو لیکن مسلمان طبیب یہ کہے کہ وہ روزے رکھنے سے بیمار ہوجائے گا وہ بھی مریض کے حکم میں ہے۔ مسئلہ : حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو اگر روزہ رکھنے سے اپنی یا بچے کی جان کا یا اس کے بیمار ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اس کوبھی افطار(یعنی چھوڑ دینا) جائز ہے۔ مسئلہ:جس مسافر نے طلوعِ فجر سے قبل سفر شروع کیا اس کو تو روزے کا افطار جائز ہے لیکن جس نے بعد ِ طلوع سفر کیا اس کو اس دن کا افطار جائز نہیں۔''

2۔۔۔۔۔۔مفسِّر شہیر، خلیفۂ اعلیٰحضرت، صدرالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:'' اس کے معنی میں مفسِّرین کے چند اقوال ہیں۔یہ کہ رمضان وہ ہے جس کی شان و شرافت میں قرآن پاک نازل ہوا۔یہ کہ قرآنِ کریم میں نزول کی ابتداء رمضان میں ہوئی۔ یہ کہ قرآن کریم بتمامہ(یعنی مکمل) رمضان المبارک کی شب ِ قدر میں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دُنیا کی طرف اُتارا گیا اور بیتُ العزَّت میں رہا یہ اسی آسمان پر ایک مقام ہے یہاں سے وقتاً فوقتاً حسب ِ اقتضائے حکمت جتنا جتنا منظورِ الٰہی ہوا جبریل امین لاتے رہے۔ یہ نزول تیئس سال کے عرصہ میں پورا ہوا۔''
Flag Counter