Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
78 - 649
رمضان میں اعما ل قبول ہوئے اورکتنی بڑی بدبختی ہے اس کے لئے جس نے روزوں میں غفلت وکوتاہی برتی، اس شخص کا صدقۂ فطر قبول نہیں اگرچہ حلال چیزسے دے۔وہ ہمیشہ سیدھی راہ سے ہٹ کر برائیوں میں پڑا رہا تو ایسی خصلتوں والا شخص سن لے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ لہوولعب میں پڑا ہوا ہے۔
اَیَا مَنْ عُمْرُہ، طَالَ			اِلٰی کَمْ اَنْتَ بَطَّالُ

جَمِیْعُ الدَّھْرِ نَقَّالُ			عَلٰی ظَھْرِکَ اَثْقَالُ

تُبَارِزُ بِالْمَعَاصِیْ			وَعَنَّا اَنْتَ قَاصِیْ

وَتَدْعُوَ بِالْخَلَاصِ			وَمَا عِنْدَکَ اِقْبَالُ

اِلَی الْغِیْبَۃِ تَرْتَاحُ			وَمَا عِنْدَکَ اِصْلَاحُ

وَمَا یَرْضٰیکَ یَا صَاحُ		سِوٰی قِیْلَ وَقَالَ

تَمُدُّ الطَّرْفَ فِی الصَّوْمِ		وَلَا تَخَشَی مِن اللَّوْمِ

لَیُکْتَبُ مِنْکَ فِی الْیَوْمِ		وَفِی اللَّیْلَۃِ اَفْعَالُ

فَتُبْ ذَا الشَّھْرِ کَیْ تَحْظٰی		وَکَمِّلْ صَوْمَہ، فَرْضًا

لَعَلَّ اللہَ اَنْ یَرْضِیَ			وَیُصْلِحَ مِنْکَ اَحوَالَ
    ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے لمبی عمر والے! تو ُ کب تک بے کار رہے گا ۔تمام زندگی تیزی سے گزر جائے گی مگر تیری پیٹھ پر بوجھ رہ جائے گا۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔توُ نافرمانیوں کے ذریعے مقابلہ کرتا ہے۔توُ ہم سے دور رہ جائے گااور نجات کے لئے فریادکریگا مگر تیرے پاس کوئی نہیں آئے گا۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔ تجھے غیبت سے سکون ملتا ہے اور تو اصلاح نہیں چاہتااوراے محترم! تجھے سوائے قیل وقال کے کوئی چیز خوش نہیں کرتی۔

    (۴)۔۔۔۔۔۔توُ روزے میں بھی آنکھوں کو برائی سے نہیں روکتا اور نہ ہی ملامت سے ڈرتا ہے ۔بلاشبہ دن رات تیرے اعمال لکھے جارہے ہیں۔

    (۵)۔۔۔۔۔۔پس تو اس مہینے میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرلے تاکہ تو بلند رتبہ پا لے اور اپنے فرض روزے مکمل کر۔ شاید! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ سے راضی ہوجائے اور تیرے احوال درست فرمادے۔

    پاک ہے وہ جس نے اُمَّتِ مسلمہ پرماہِ رمضان کے روزے فرض فرمائے اور مزید فضل واحسان سے نوازنے کے ساتھ اسی ماہ انہیں جہنم سے آزا دی کاپروانہ بھی عطاکیا۔چنانچہ اللہ عزَّوَجَلَّ کافرما نِ عالیشان ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ
ترجمۂ کنزالایمان :اے ایمان والوتم پرروزے فرض کئے گئے۔(پ2، البقرۃ: 183)(۱)

    روزے جسم کی صحت کا سبب اور دل و زبان کو گناہ ومعصیت سے پا ک کرنے کا ذریعہ ہیں اور اس مہینے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اس شخص کے لئے روزوں کی رخصت نازل فرمائی جسے کوئی مرض یا تکلیف پہنچی ہو ۔
1۔۔۔۔۔۔مفسِّر شہیر، خلیفۂ اعلیٰحضرت، صدرالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' اس آیت میں روزوں کی فرضیت کا بیان ہے ۔روزہ شرع میں اِس کا نام ہے کہ مسلمان خواہ مرد ہو یا حیض یا نفاس سے خالی عورت، صبحِ صادِق سے غروبِ آفتاب تک بہ نیتِ عبادت خوردو نوش و مجامعت ترک کرے۔ (عالمگیری وغیرہ) رمضان کے روزے۱0 شعبان ۲ھ کو فرض کئے گئے۔(درمختار وخازن)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے عبادتِ قدیمہ ہیں، زمانۂ آدم علیہ السلام سے تمام شریعتوں میں فرض ہوتے چلے آئے۔ اگرچہ ایام و احکام مختلف تھے مگر اصل روزے سب امتوں پر لازم رہے۔''
Flag Counter